ورثے کا زوال: کشمیری اخروٹ کی لکڑی کے فن پر مشین سے تیار ہونے والے مال کی تلوار کا خطرہ

سری نگر،10فروری

سرینگر کے قدیم ترین علاقوں میں شمار کئے جانے والے اردو بازار، فتح کدل علاقے میں، جو آج بھی اپنی تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے کے باعث شہر خاص کی پہچان مانا جاتا ہے، اسی گنجان بستی میں ایک ایسا کاریگر آباد ہے جس نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی شان سمجھے جانے والے اخروٹ کی لکڑی سے بننے والی دستکاری کے لئے وقف کر دی ہے۔عبدالعزیز نامی یہ کاریگر گزشتہ ستر برسوں سے اسی فن کے ذریعے نہ صرف اپنا گھر چلا رہا ہے بلکہ کشمیر کی روایتی ہنرمندی کا علم بھی سربلند رکھے ہوئے ہے۔

عبدالعزیز نے اپنی جھریوں بھری آنکھوں میں وقت کی کہانیاں سمیٹے ہوئے یو این آئی کو بتایا: ‘آج کے بلوارڈ کی چمک دمک کو لوگ جتنا جانتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر چالیس سال قبل شہر خاص کی گلیاں مشہور تھیں’۔انہوں نے کہا: ‘یہ علاقہ کبھی ہنر مندوں کی آماجگاہ تھا—یہاں ہر گلی میں کاریگر تھا، ہر دروازے کے پیچھے ہنر بستا تھا۔ اسی جہلم کے کنارے نہرو اور اندرا گاندھی بھی آئے تھے۔

اس سے اندازہ لگائیں کہ یہ علاقہ کتنی اہمیت رکھتا تھا’۔ان کے مطابق پتھر مسجد جیسی تاریخی عبادت گاہ بھی اسی علاقے میں موجود ہے، جو اس محلے کی عظمتِ رفتہ کی خاموش گواہ ہے۔عبدالعزیز بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی اخروٹ کی لکڑی کے کام سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘میں بچپن سے ہی اس ہنر سے وابستہ ہوں، میرے ہاتھ آج بھی لکڑی کی رگوں کو پہچانتے ہیں، آری اور چھینی کی آوازیں میرے لیے موسیقی کا درجہ رکھتی ہیں’۔وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:’کبھی ہم اچھا خاصا کماتے تھے۔ اخروٹ کی لکڑی کا کام ایک عزت دار پیشہ تھا۔ لوگ اس میں محنت بھی کرتے تھے اور کمائی بھی ہوتی تھی۔ مگر اب… زمانہ بہت بدل گیا ہے’۔

عبدالعزیز کے مطابق کشمیر کا کاریگر اس وقت سخت پریشانی میں ہے۔انہوں نے بتایا: ‘ایل جی منوج سنہا کے دور میں لاکھوں سیاح کشمیر آئے مگر پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد کم ہوگئی اور سب سے زیادہ نقصان کشمیر کے کاریگروں کو ہوا، جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ اس فن سے وابستہ مزدوری اتنی کم ہو چکی ہے کہ نئی نسل اس پیشے کی طرف آنا ہی نہیں چاہتی۔موصوف کاریگر نے کہا: ‘میں نے اپنے بچوں کو بھی سکھانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے صاف کہہ دیا—ابّا، اس میں محنت زیادہ ہے اور کمائی بہت کم ہے’۔ایک انتہائی تشویشناک پہلو کا ذکر کرتے ہوئے عبدالعزیز نے بتایا کہ کشمیر کے ہنر کو اصل دھچکا باہر سے آنے والی سستی اور مشین سے بنی چیزوں نے دیا ہے۔وہ کہتے ہیں: ‘چالیس سال پہلے مجھے سہارنپور جانے کو کہا گیا۔ وہاں مرد و خواتین بڑی تعداد میں اسی کام سے جڑے تھے، مگر فرق یہ تھا کہ وہ سب مشین سے کام کرتے تھے۔ آج کشمیر کے سیاحتی مقامات پر جو مال بک رہا ہے وہ زیادہ تر سہارنپور کا ہے، کشمیری نہیں’۔ان کے مطابق اس صورتحال نے مقامی کاریگروں کے لیے معاشی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔انہوں نے کہا: ‘سیاح سمجھ بھی نہیں پاتے کہ جو چیز انہیں ’کشمیری‘ کہہ کر دی جا رہی ہے وہ اصل میں باہر سے آئی ہوتی ہے۔

اس دھوکے کا نقصان ہم غریب کاریگروں کو ہو رہا ہے’۔عبدالعزیز افسوس سے بتاتے ہیں کہ:’اب بھی کاش کہ آپ کو معلوم ہو کہ کشمیر میں بہت اچھے کاریگر موجود ہیں۔ لیکن جب مزدوری ہی نہ ملے، تو ہنر کیسے زندہ رہے گا’۔ان کے مطابق اخروٹ کی لکڑی کی دستکاری اب قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے،اس فن سے جڑے لوگ تیزی سے پیشہ تبدیل کر رہے ہیں،وارث نہ ہونے کی وجہ سے نئی نسل اس ہنر سے کٹ رہی ہے۔ان کا ماننا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے چند سال میں کشمیری اخروٹ کی دستکاری صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گی۔عبدالعزیز کی آواز میں امید کم اور تھکن زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت مقامی کاریگروں کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی دے،سہارنپور کے مال کی بھرمار روکنے کے لیے پالیسی بنائے،اصلی اور نقلی ’کشمیری آرٹ‘ میں فرق واضح کرنے کے لیے سرٹیفیکیشن سسٹم شروع کرے۔اردو بازار کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا یہ عمر رسیدہ کاریگر صرف اخروٹ کی لکڑی نہیں تراشتا…وہ کشمیر کی تہذیب، روایت اور فن کو تراشتا ہے۔لیکن وقت کی رفتار، سستی درآمدی اشیاءاور کم ہوتی مزدوری نے اس فن کو زندہ رہنے کی آخری جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

Comments are closed.