جموں و کشمیر میں تین سال میں شراب کی فروخت سے 3,450 کروڑ روپے کی آمدنی، پابندی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں :سرکار

جموں،10فروری

جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ مرکزی زیر انتظام علاقے میں شراب پر پابندی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں شراب کی فروخت سے 3,450 کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔

یہ معلومات ایم ایل اے بلونت سنگھ منکوٹیا کے سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی گئی۔ حکومت نے کہا کہ شراب پر پابندی سے پڑوسی ریاستوں سے اسمگلنگ میں اضافہ، غیر قانونی کشید کاری اور منظم مافیا کے فروغ کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس سے عوامی صحت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں پر بھی منفی اثر پڑے گا اور ہزاروں لوگ روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جموں ضلع سب سے زیادہ آمدنی فراہم کرنے والا ضلع رہا، جہاں 2022–23 میں 140 شراب کی دکانوں اور 84 بارز سے 51,262.41 لاکھ روپے، 2023–24 میں50,826.31 لاکھ روپے اور 2024–25 میں 52,292.83 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔ کٹھوعہ، سانبہ اور ادھمپور میں بھی ریونیو میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ریاسی، ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن میں آمدنی معتدل رہی۔ راجوری میں 2024–25 میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو پچھلے سال کے 5,268.78 لاکھ سے بڑھ کر 15,232.04 لاکھ ہو گیا۔کشمیرمیں شراب کی فروخت محدود ہے، تاہم سری نگر میں آمدنی 3,086.77 لاکھ سے بڑھ کر 7,632.90 لاکھ ہو گئی اور اننت ناگ میں بھی تین سال میں ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا۔

پلوامہ، شوپیاں، بڈگام، کولگام اور بانڈی پورہ میں گزشتہ تین برس کے دوران کوئی بار یا وائن شاپ موجود نہیں رہی۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ شراب کی فروخت پر پابندی لگانے سے غیر قانونی سرگرمیوں، مافیا کی مضبوطی اور سیاحت و تجارت کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے، اسی لیے ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

Comments are closed.