جموں و کشمیر اسمبلی اسپیکر کا بجٹ سیشن کو خوش اسلوبی سے چلانے پر زور
جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے پیر کو شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے دوران ایوان کی کارکردگی کو نتیجہ خیز، باوقار اور موثر بنانے کے لیے تمام اراکین سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے کی گنجائش موجود ہے مگر اسے شائستہ انداز میں ظاہر کیا جانا چاہیے تاکہ عوامی توقعات کے مطابق ایوان اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر سکے۔
بجٹ سیشن کے پہلے روز لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کو ایوان میں پیش کرنے کے بعد اسپیکر نے اراکین کو یقین دلایا کہ 27 روزہ اجلاس کے دوران انہیں مناسب وقت فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیشن کے پہلے حصے میں 19 فروری تک روزانہ دو نشستیں ہوں گی، تاکہ بجٹ سے متعلق زیادہ سے زیادہ کام مقررہ وقت میں مکمل کیا جا سکے۔
اسپیکر نے کہا، ’یہ ایوان عوام کی امیدوں، امنگوں اور اعتماد کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ جو کچھ ہم یہاں کہتے یا کرتے ہیں وہ عوام کی نگاہوں میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں انتہائی احتیاط، وقار اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘
انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھائیں، کیونکہ ایوان ہی وہ واحد فورم ہے جہاں عوامی مشکلات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ خلل ڈالنے کی سیاست عوام کو پسند نہیں، اور اس سے نمائندوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
اسپیکر نے مسلسل قانون سازی کے اپنے وسیع تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1977 سے لے کر آج تک کی پارلیمانی زندگی نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ شائستگی اور دلیل کے ساتھ بات کرنے سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہنگامہ آرائی یا بدنظمی نہ اراکین کے حلقوں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور نہ ایوان کا وقار برقرار رکھتی ہے۔ عوام ہم سے حل چاہتے ہیں، شور نہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیشن پر آنے والا ہر خرچ عوامی پیسہ ہے، لہٰذا اراکین پر لازم ہے کہ وہ نظم و ضبط کی مثال قائم کریں۔ اسپیکر نے سخت الفاظ میں واضح کیا کہ وہ ایوان میں بدنظمی برداشت نہیں کریں گے، تاہم امید ظاہر کی کہ ایسا موقع نہ آئے کہ چیئر کو سخت کارروائی پر مجبور ہونا پڑے۔
اسپیکر نے کہا کہ عوام اپنے نمائندوں سے سنجیدگی، توازن اور دلیل پر مبنی مکالمے کی توقع رکھتے ہیں اور اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ایوان میں شائستگی اور پارلیمانی اقدار کی روایت کو مضبوط بنائیں۔
Comments are closed.