جموں و کشمیر میں بھرتیوں کی شفافیت لازمی، دھاندلی ثابت ہوئی تو کارروائی ہوگی: عمر عبداللہ
سری نگر،25جنوری
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کو واضح کیا ہے کہ ریاست میں تمام انتظامی اور بھرتی سے متعلق فیصلے محض اہلیت اور شفافیت کی بنیاد پر کیے جائیں گے، اور اگر کسی امتحان میں دھاندلی یا بے ضابطگی کے شواہد پیش کیے گئے تو حکومت سخت ترین کارروائی شروع کرے گی۔
گلمرگ میں برف باری کی صورتحال، بجلی بحالی کے اقدامات اور نئی اسکی لفٹ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر معاملے کو مذہب یا خطے کے چشمے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ کچھ فیصلے صرف اور صرف میرٹ پر ہونے چاہئیں۔ جن امیدواروں نے محنت سے میرٹ حاصل کیا ہے وہ اس کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کشمیر میں جوڈیشل سروسز مین امتحان کے نتائج پر اٹھائے جارہے اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ دھاندلی کے ثبوت لاتے ہیں تو میں فوری تحقیقات کا حکم دینے کے لیے تیار ہوں۔ اگر کسی نے نقل، بے ایمانی یا امتحان چھیڑ چھاڑ کا راستہ اپنایا ہے، اسے بخشا نہیں جائے گا۔‘
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وہ گلمرگ عوام کی شکایات کے بعد آئے ہیں جہاں برف ہٹانے اور بجلی کی فراہمی میں کچھ معمولی خامیاں تھیں جنہیں انتظامیہ دور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں ماہ جنوری کا بیشتر حصہ خشک گزرا تھا، اس لیے یہ برف باری نہ صرف سیاحتی شعبے کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ گرمیوں میں پانی کی قلت کو بھی کم کرے گی۔
عمر عبداللہ کے مطابق 26 اور 27 جنوری کو مزید برف باری متوقع ہے جبکہ نئی اسکی لفٹ کو کچھ ہی گھنٹوں میں فعال کردیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ برس کھیلو انڈیا گیمز کو برف باری نہ ہونے کے سبب کئی بار ملتوی کرنا پڑا تھا، تاہم اس سال کے حالات سازگار دکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تیز ہواؤں اور بھاری برف باری کے باعث ریاست میں بجلی کی دستیابی 1700 میگاواٹ سے گھٹ کر 100 میگاواٹ تک آگئی تھی، تاہم گزشتہ شب تک یہ بحال ہو کر 1500 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھی بہت جلد مکمل بجلی بحال کر دی جائے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ جموں و کشمیر کی وحدت کی حمایت کرتی آئی ہے۔’ہم نے کبھی بھی ریاست کے کسی حصے کی علیحدگی کی حمایت نہیں کی۔ لداخ کو الگ کیا گیا، مگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ جموں و کشمیر کا حصہ بنے۔ جموں کی تقسیم کی بھی ہم نے کبھی تائید نہیں کی۔ یہ بی جے پی اور اس کے اتحادی تھے جنہوں نے ریاست کو تقسیم کیا
Comments are closed.