وادی میں برفباری کے بعد سیاحتی شعبے میں نئی جان، سیاحتی مقامات پر غیر معمولی رش
سرینگر،28جنوری
وادی کشمیر میں طویل خشک موسم کے بعد ہونے والی تازہ اور بھاری برف باری نے نہ صرف پوری وادی کو دوبارہ سفید چادر اوڑھا دی ہے بلکہ سیاحتی سرگرمیوں میں بھی نئی جان بخش دی ہے۔
بھاری برف باری کے بعد گلمرگ کا رہائشی منظر ایک بار پھر دلکش اور مسحور کن بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں مشہور گلمرگ گنڈولہ کے لیے صبح سے ہی لائنیں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ سکیئنگ اور سنو بورڈنگ کے شوقین ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں پہاڑی ڈھلانوں کا رخ کر رہے ہیں۔
دہلی سے آئے ایک سیاح امت شرما نے یو این آئی کو بتایا:’ہم پچھلے ایک ماہ سے گلمرگ آنے کا انتظار کر رہے تھے لیکن برف نہیں ہونے کی وجہ سے منصوبہ ملتوی کر رہے تھے۔ اب جب پورا گلمرگ سفید ہو گیا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ کشمیر نے ہمارا کھویا ہوا انتظار پورا کر دیا ہو۔‘
اننت ناگ ضلع کے مشہور ترین پہاڑی مقام پہلگام میں بھی سیاحوں کا جمِ غفیر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ برف باری نے آرُو ویلی اور بیٹااب ویلی کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیا ہے۔ گھوڑا سوار، لوکل گائیڈ، ٹیکسی آپریٹر اور دکاندار سبھی اس غیر معمولی رش سے خوش نظر آ رہے ہیں۔ پہلگام کے لوکل ٹیکسی ڈرائیور محمد نذیر نے یو این آئی کو بتایا:
’تین ہفتے سے گاڑی تقریباً کھڑی تھی۔ آج الحمدللہ چار ٹرپس کیے۔ برف ہمارے لیے ہمیشہ برکت لے کر آتی ہے، چاہے موسم کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔‘
ممبئی کی سیاح سونیا کولھے نے کہا:’ہم نے کبھی اتنی قریب سے برف نہیں دیکھی تھی۔ پہلگام کی فضاؤں میں ایک سکون ہے، ایک خاموشی جس سے محبت ہو جاتی ہے۔ کشمیر سچ میں جنت ہے۔‘
سونہ مرگ میں بھی برف باری نے منظرنامہ حسین بنا دیا ہے، لیکن زوجیلا اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری برفباری کے بعد راستے بند ہونے کے باعث کئی سیاحوں کو محدود مقامات تک ہی رسائی مل رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سڑکوں کی کلیئرنس کے لیے مشینری لگاتار کام کر رہی ہے۔
سری نگر شہر میں ڈل جھیل، مغل باغات اور شہر خاص کے تاریخی مقامات پر بھی سیاحوں کا بے تحاشا رش دیکھا جا رہا ہے۔ ڈل جھیل میں شِکارا سواری، خاص طور پر برف کی ہلکی تہہ کے ساتھ، سیاحوں کے لیے ایک منفرد تجربہ بنتا جا رہا ہے۔
شکارا والے غلام حیدر نے بتایا:’پچھلے پورے مہینے میں جتنی سواری نہیں ملی تھی، وہ ایک دن میں مل رہی ہے۔ برف باری نے ڈل جھیل کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دی ہے، سیاح تصویروں اور ویڈیوز کے لیے لائن بنا رہے ہیں۔‘
برف باری کے بعد سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ملبوسات، دستکاری، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ اور ہوٹل صنعت کے لیے بھی راحت لے کر آیا ہے۔
ایک دکاندار ارشاد بٹ نے کہا:’خشک سالی اور کم سیاحت کی وجہ سے حالات بہت خراب تھے۔ اب تین دن میں جتنا کاروبار ہوا ہے، لگتا ہے اللہ نے ہماری دعائیں سن لی ہیں۔ برف ہمارے لیے زندگی ہے۔‘
اگرچہ برف باری نے خوشی لائی ہے، لیکن کچھ علاقوں میں سڑکوں کی بندش، بجلی کی فراہمی میں خلل اور ٹریفک رکاوٹیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے متعدد ٹیمیں تعینات کی ہیں۔
ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’سیاحوں کے بڑھتے رش کو دیکھتے ہوئے ہماری ترجیح صاف راستے، بہتر رابطہ کاری اور ہنگامی خدمات کی فراہمی ہے۔ کوشش ہے کہ سیاحوں کو کسی بھی قسم کی دقت نہ آئے۔‘
سیاحتی محکمہ کے مطابق اگلے چار سے پانچ روز میں موسم دھیمی رفتار سے بہتر ہوگا جس کے بعد سیاحوں کی تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
سیاحوں اور مقامی لوگوں کے چہروں پر جو خوشی اور اطمینان دکھائی دے رہا ہے، وہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ کشمیر کا اصل حسن،برف،ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ لوٹ آیا ہے۔
Comments are closed.