وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا محکموں کے ساتھ پری بجٹ مشاورت میٹنگیںجاری
جموں/22جنوری
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج مسلسل تیسرے دِن جل شکتی، زراعت، دیہی ترقی، جنگلات، خوراک و شہری رسدات و اَمورِ صارفین اور کھیلوںسمیت دیگر اہم شعبوں کی پری بجٹ مشاورت میٹنگوں کی صدارت کی تاکہ آئندہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پیش نظر ترجیحات اور ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دِی جا سکے۔
میٹنگ میں نائب وزیرا علیٰ سریندرکمار چودھری ، وزرا¿ جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو،ایڈیشنل چیف سیکرٹر ی جل شکتی شالین کابرا،وزیر اعلیٰ کے چیف ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا،ایڈیشنل چیف سیکرٹری زراعت شیلندر کمار،دیگر متعلقہ محکموں کے اِنتظامی سیکرٹریوں ، فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے سینئر اَفسران اور دیگر متعلقہ محکموں کے اَفسران نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے دوران بات چیت شعبہ وار تجاویز، جاری منصوبوں اور اُبھرتے ہوئے چیلنجوںکا جائزہ لیا جبکہ خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی نتائج کو مستحکم کرنے کے مقصد سے مرکوز اِن پٹ طلب کئے۔ اُنہوں نے کہا،”بجٹ مختصات کو معمول کے عمل اَقدامات سے آگے بڑھنا چاہیے اور اِس کی جڑیں عملی ، کارکردگی اور زمینی سطح پر قابل پیمائش اثرات پر مضبوطی سے جڑی ہونی چاہئیں۔
اُنہوں نے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بجٹ میں شامل تجاویز قابل عمل ہونی چاہئیں، معین وقت میں نافذ کی جا سکیں اور لوگوں کو واضح فوائد فراہم کریں۔ اُنہوں نے کہا،“بجٹ کی تجاویز ایسی ہونی چاہئیں جو حقیقت میں زمینی سطح پر نافذ کی جا سکیں۔“
وزیر اعلیٰ نے محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کاموں کی تکرار سے بچا جا سکے اور وسائل کا زیادہ سے زیادہ مو¿ثر اِستعمال یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پانی کی فراہمی، زراعت، دیہی روزگار اور ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ایسی کوششوں کو ترجیح دیں جو خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائیں، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کریں، روزگار پیدا کریں اور براہ راست کسانوں اور دیہی کمیونٹیوں کی ضروریات کو پورا کریں۔
Comments are closed.