وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جے کے اِی ۔پاٹھ شالا ٹیلی ایجوکیشن چینل کا آغاز کیا
جموں/08جنوری
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ’جے کے اِی۔پاتھ شالا ڈائریکٹ ٹو ہوم چینل۔53 ‘کا باضابطہ آغاز کیا جو ایک مخصوص تعلیمی ٹیلی ویژن چینل ہے جس کا مقصد سکولی تعلیم کوبالخصوص جموںوکشمیر کے دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام تعلیمی شعبے میں ایک بڑی تکنیکی مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اِفتتاحی تقریب میں وزیر تعلیم سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو (بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ )، کمشنر سیکرٹری سکولی تعلیم رام نواس شرما، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا بھوانی رکوال، ڈائریکٹر سکولی تعلیم جاوید نسیم چودھری، سپیشل ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس اے جی۔ این ونئے ٹھاکر کے علاوہ اَساتذہ، طلبا¿ اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔
اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے دو نئے قائم شدہ ڈیجیٹل سٹوڈیوز کا بھی اِفتتاح کیا، جموں و کشمیر کے 14 اَضلاع کو مکمل طور پر خواندہ قرار دیا اور سال 2025-26 کے دوران سماگراہ شکھشا کے تحت مکمل کئے گئے 1010 ترقیاتی کاموںکو عوام کے نام وقف کیا۔
اُنہوں نے کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے کے اِی۔پاٹھ شالاسکولی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کے اِستعمال میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تدریسی طریقوں میں آنے والی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے سکولی دِنوں کو یاد کیا اور کہا کہ ایک وقت میں اوور ہیڈ پروجیکٹر کو بھی ایک بڑی تکنیکی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ اُنہوں نے کہا،”ہمارے وقت میں ہم سمجھتے تھے کہ اوور ہیڈ پروجیکٹر والی کلاس میں بیٹھ کر ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو گئے ہیں۔ آج ہم تعلیم کے میدان میں ایک حقیقی تکنیکی اِنقلاب کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔“
اُنہوں نے اس اَقدام پرمحکمہ سکولی تعلیم کو مُبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیکنالوجی کو مو¿ثر طریقے سے اِستعمال کیا جائے تو ٹیکنالوجی واقعی بچوں کی زِندگی بدل سکتی ہے۔ تاہم، اُنہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا مقصد کلاس روم کی تعلیم کو بڑھانا ہے، اساتذہ کی جگہ لینا نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا،”یہ چینل نہ کلاس روم کی جگہ لینے کے لئے ہے اور نہ ہی اُستاد کی۔ اُستاد اور کلاس روم کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ ٹیکنالوجی کا مقصد خلا کو پُر کرنا اور سیکھنے میں مدد کرناہے۔“اُنہوں نے مزید کہا کہ اُستاد اور طالب علم کے درمیان ذاتی رشتہ کسی بھی ڈیوائس یا سکرین سے نہیں بن سکتا۔
اُنہوں نے ایک ذاتی واقعہ کا اِشتراک کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک سخت اور محنتی اُستاد نے انہیں سائنس کا خوف دور کرنے میں مدد کی۔ اُنہوں نے کہا،”اچھے اَساتذہ کمزور ترین طلبا¿ کو بھی اَپنی صلاحیتوں کی حدیں عبور کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کوئی بھی ٹیکنالوجی اچھے استاد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔“
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اِس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کی مہارتوں کو مسلسل بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی کو معاون آلے کے طور پر اِستعمال کرنے کی ترغیب د ینا ضروری ہے۔ اُنہوں نے جے کے اِی۔پاتھ شالا پر معیاری اور باقاعدگی سے اَپ ڈیٹ ہونے والے مواد کی اہمیت بھی اُجاگر کی اور چینل کو مو¿ثر اور متعلقہ رکھنے کے لئے طلبا¿ اور اَساتذہ سے مسلسل فیڈ بیک لینے کی ہدایت دی۔
اُنہوں نے جموں و کشمیر کے منفرد جغرافیائی اور موسمی چیلنجوں بالخصوص دُور دراز اضلاع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چینل الگ تھلگ علاقوں میں رہنے والے طلباءکے لئے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے کہا،”ہمارے طلبا¿سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر پر بھی ان چینلوںکے ذریعے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔“
وزیر اعلیٰ نے ڈیجیٹل سکرینوںکے ذمہ دارانہ اِستعمال کے بارے میں بھی بات کی اور طلباءکو تلقین کی کہ وہ موبائل ڈیوائسز کو تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لئے اِستعمال کریں جبکہ زیادہ گیمنگ اور غیر مفید سرگرمیوں سے گریز کریں۔
اُنہوں نے مطالعے کی عادت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے والدین اور اَساتذہ سے کہاکہ وہ بچوں میں کتابیں، اخبارات اور رسائل پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اُنہوں نے کہا،”اگر ہم اَپنے بچوں کے لئے کتابوں کی دُنیا کھول دیں تو ہم اُن کے لئے ایک بالکل نئی دنیا کھول دیتے ہیں۔“
وزیر اعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ جے کے اَی۔پاتھ شالا جموں و کشمیر میں ایک بڑے ڈیجیٹل تعلیمی نظام کی بنیاد ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہر جماعت کے لئے علیحدہ چینلز متعارف کئے جا سکتے ہیں تاکہ ہر درجے کے طلباءکو مناسب تعلیمی وقت فراہم کیا جا سکے۔
اُنہوں نے کہا ،”چاہے ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے جسمانی طور پر موجود اساتذہ کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔“اُنہوں نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مل کر جموں وکشمیر کے بچوں کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لئے کام کریں۔
اِس سے قبل وزیر تعلیم سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی اور چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے بھی اِجتماع سے خطاب کیا اور جے کے اِی۔پاتھ شالا کے آغاز کو جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک تاریخی اور اِنقلابی قدم قرار دیا۔
Comments are closed.