میری سیاست اصولوں پر مبنی ہے، کرسی کے لئے نہیں:آغا روح اللہ

سری نگر ،27نومبر

نیشنل کانفرنس کے سینئرلیڈر اور رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے جمعرات کو پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے انہیں باہر رکھنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار انہیں اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، جو خود اپنے آپ میں ایک غیر معمولی فیصلہ ہے۔
گاندربل میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران جب ان سے الگ پارٹی بنانے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اختلاف کرسی یا ذاتی مفاد کا نہیں بلکہ اصولوں اور عوامی وعدوں سے جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے عوام سے آرٹیکل 370 کی بحالی، نوجوانوں کی رہائی اور سیاسی ایجنڈے کی بحالی کا وعدہ کیا تھا، جس پر ووٹ بھی حاصل کیے گئے، مگر الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی نے وہی زبان بولنا شروع کی جو بی جے پی اختیار کرتی ہے۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے کہا تھا کہ ان کے مسائل کو حل کریں گے، بیروزگاری پر قابو پائیں گے، ریزرویشن کا مسئلہ حل کریں گے، بجلی کا بحران دور کریں گے۔ مگر ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم نے اپنے ہی سیاسی ایجنڈے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی۔ وقف ترمیمی بل پر بھی ہم نے وہ لڑائی نہیں لڑی جو ضروری تھی—ہم نے صرف وقت ضائع کیا۔
گاندربل میں حالیہ مسماری مہم پر سوال پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اکثر مقامات پر کوئی بڑی خلاف ورزی نہیں تھی، لیکن کارروائیاں قانون سے بالاتر ہو کر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی نمائندے، جنہیں عوام نے منتخب کرکے بھیجا، کہیں نظر نہیں آ رہے۔
یوپی میں جو بلڈوزر چل رہا ہے، وہی یہاں چل رہا ہے۔ مگر منتخب نمائندے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری کے ان کے خلاف دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ چوہدری پہلے بی جے پی اور پی ڈی پی میں رہ چکے ہیں اور دو سال پہلے تک نیشنل کانفرنس کا حصہ ہی نہیں تھے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:’جو لوگ کل تک پارٹی میں نہیں تھے وہ آج میرے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ میری سیاست اصولوں پر مبنی ہے، کرسی کی سیاست نہیں۔‘
ریزرویشن سے متعلق تاخیر پر شدید مایوسی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ ایک سال سے اس مسئلے کو ٹال رہی ہے اور عوام میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا:’ریزرویشن معاملہ اب تک حل ہونا چاہیے تھا۔ اگر حکومت ایک مہینے میں اس مسئلے کو حل نہیں کرتی تو میں خاموش نہیں رہوں گا اور مجبور ہو کر عوام کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج

Comments are closed.