کرالہ گنڈ لنگیٹ میں اپنی پارٹی کی عوامی رابطہ مہم
سید محمد الطاف بخاری کا نئی دلی پر جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے اور ریاست کا درجہ بحال کرنے پر زور
سرینگر: اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کرے اور اس بات چیت کے بعد وعدے کے مطابق جموں کشمیر کا ریاست کا درجہ بھی بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دیرپا امن و استحکام کے لیے دلوں کی دوریاں پاٹنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے منتخب یوٹی سرکار پر زور دیا کہ وہ ڈومیسائل کےلئے اقامتی شرط کو 15 سال سے بڑھا کر 35 سال کرے اور ریزرویشن پالیسی پر نظر ثانی کرے تاکہ اسے متوازن اور منصفانہ بنایا جا سکے۔
سید محمد الطاف بخاری نے گرفتاریوں کے سلسلے کی مذمت کی اور جموں و کشمیر سے باہر کئی مقامات پر کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے حالیہ واقعات پر بھی اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وہ آج لنگیٹ حلقہ انتخاب کے کرالا گنڈ میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، ’’ہم نے آج یہاں اپنے سینئر کارکنوں سے ملاقات کی اور بات چیت کی۔ اس ملاقات کا مقصد حکمت عملی مرتب کرنے کےلئے ساتھ ساتھ پارٹی کے ایجنڈے اور پالیسیوں کی توثیق کرنا ہے۔ ہمارے ایجنڈے اور پالیسیوں کی جڑیں سچائی کی سیاست پر منبی ہیں۔ ہم نے گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات کے دوران جو منشور پیش کیا تھا، وہ آج بھی ریلونٹ ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اپنی پارٹی نے حقیقی مسائل کو اُجاگر کیا تھا اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ہمارے اصل مسائل نوجوانوں کی گرفتاریاں، نوکریوں اور پاسپورٹ کے لیے درکارویری فکیشن میں رکاوٹیں۔ لوگوں کو محض اس لئے پولیس تھانوں میں طلب کرنا کیونکہ ماضی میں ان کے سیاسی نظریات کچھ اور تھے۔ یہی وہ سنگین مسائل ہیں، جن کا ہمارے لوگوں کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ہم نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم اقتدار میں آئے تو ہم عام معافی کا اعلان کریں گے اور گرفتاریوں کا سلسلہ ختم کرائیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں ووٹ نہیں دیا گیا۔‘‘
سید محمد الطاف بخاری کا کہنا تھا کہ اپنی پارٹی واحد جماعت ہے جس نے حقیقی معنوں میں نئی دلی سے کچھ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا، پانچ اگست دو ہزار انیس کے بعد جب ہم نئی دلی گئے تو ہم نے مرکزی سرکار کو یہ حکم نامہ جاری کرنے پر راضی کرایا کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو یہاں کی زمینوں اور نوکریوں پر اُن کا حق برقرار رہے گا۔ پچھلے 75 سالوں سے دوسری پارٹیاں صرف نئی دہلی کے سامنے حقوق سرینڈر کرتی آئی ہیں۔ لیکن ہم نے یہ کامیابی حاصل کی۔ 5 اگست 2019 کے بعد، جموں و کشمیر سے باہر کا کوئی بھی شخص یہاں زمین خرید سکتا تھا یا نوکریوں کے لیے درخواست دے سکتا تھا۔ لیکن یہ اپنی پارٹی ہی تھی جو دہلی گئی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ڈومیسائل کی اہلیت کے لیے 15 سال کی رہائش کی شرط طے کی گئی ہے۔ یہ ہماری کامیابی تھی، اور ہم نے اس کے بارے میں خود ستائی نہیں کی۔ ہم نے اس کامیابی کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ ہی دن بعد کوڈ شروع ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے باوجود جموں و کشمیر کے لوگ اپنے خصوصی حقوق کو برقرار رکھنے میں کس طرح کامیاب ہوئے، حقیقت یہ ہے کہ اس کامیابی کا سہرا اپنی پارٹی کو جاتا ہے جو اس وقت حکومت ہند کے سامنے مضبوطی سے کھڑی تھی۔
انہوں نے ڈومیسائل کےلئے اقامتی شرط کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ یہ اختیاریو ٹی سرکار کے پاس ہے۔ میں اپنے کارکنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ رہائش کی مدت میں اضافہ کیوں ضروری ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ مفت بجلی جیسے مطالبات اور اس طرح کے دیگر مسائل معمولی ہیں۔ انہیں زیادہ اہم مسئلے یعنی اقامتی شرط کو مزید مضبوط بنانے پر حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں تک پہنچیں اور انہیں اس بات سے آگاہ کریں کہ اپنی پارٹی کا مقصد کیا ہے اور یہ ان کے لیے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔
مرکز سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ "حکومت پاکستان سے بات چیت کا انتخاب کرتی ہے یا نہیں یہ مکمل طور پر اس کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر عوام بالخصوص جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو عوام اور مرکزی حکومت کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے متحد ہونا چاہیے، تاکہ ریاستی حیثیت اور دیگر اہم حقوق کی بحالی کے لیے راستہ صاف ہو سکے۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ جو لوگ اپنی پارٹی کے خلاف بے ہودہ مہم چلا رہے ہیں وہ دراصل بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان پارٹیوں کے لیڈروں نے اقتدار حاصل کیا اور یہاں تک کہ بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر بن گئے۔ وہ بی جے پی کے اصلی پراکسی اور بی ٹیم ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم اس بی جے پی سے منسلک نہیں ہو سکتے۔ تاہم، وزیر اعظم پورے ملک کے رہنما ہیں اور اسی طرح وزیر داخلہ بھی ہیں۔ جو بھی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے کام کرنا چاہتا ہے اسے ان قومی رہنماؤں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ ہم حکومت ہند کے فعال تعاون کے بغیر اپنے مسائل حل نہیں کرا سکتے۔‘‘
ریزرویشن کے معاملے پر سید محمد الطاف بخاری نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، "دیکھیں کہ بے روزگاری ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو کس طرح نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان منشیات کی لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان روزگار کے مواقع کے مستحق ہیں تاکہ وہ عام اور پرامن زندگی گزار سکیں۔‘‘
اس موقع پر سید محمد الطاف بخاری نے مقامی لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے کہا، ’’ مجوزہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) کو گنڈ چوگل، ہندواڑہ میں اس کی منظور شدہ جگہ پر بنایا جانا چاہیے۔ اس پروجیکٹ کو منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کی اپنی پارٹی سخت مخالفت کرے گی۔ عوامی فنڈز میں 45 کروڑ روپے کی خطیر رقم پہلے ہی خرچ ہو چکی ہے، اس لیے کالج کو بغیر کسی تاخیر کے منظور شدہ جگہ پر مکمل کیا جانا چاہیے۔‘‘
مقامی باشندگان نے اپنی پارٹی کے صدر کو بعض مسائل سے آگاہ کیا جن کا لنگیٹ حلقہ کے لوگوں کو سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق ریاست میں وزیر تعلیم کے طور پر انہوں نے جس ڈگری کالج کی منظوری دی تھی وہ ابھی تک تعمیر نہیں ہوسکا ہے کیونکہ اس کے لیے ابھی تک زمین الاٹ نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے پانی کے شدید بحران، مقامی ہیلتھ سینٹروں میں ناقص انفراسٹرکچر لیڈی ڈاکٹرز کی کمی کے مسائل بھی اٹھائے۔ سید محمد الطاف بخاری نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان معاملات کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائیں گے۔
تقریب میں سید محمد الطاف بخاری کے علاوہ پارٹی کے جن سرکردہ لیڈران نے تقریر کی یا جو یہاں موجود تھے، اُن میں پارلیمانی امور کمیٹی کے چیرمین محمد دلاور میر، ضلع صدر کپوارہ راجہ منظور، یوتھ ونگ صدر اور ترجمان یاور میر، ضلع صدر بارہمولہ شبیر احمد شاہ، سینئر لیڈر شبیر احمد لون، سینئر لیڈر عبدالرشید بٹ، حلقہ انچارج لنگیٹ خواجہ منور، عبدالرحیم وانی، محمد امین بٹ، ڈاکٹر نور الدین شاہ، بلال عارف شاہ، فاروق احمد وانی، غلام حسن ڈار، نذیر احمد ڈار، عبدالقیوم گیلانی، ظہور احمد ڈار اور دیگر لیڈران شامل تھے۔
Comments are closed.