ہم سے وہ ملے جن کا مدتوں سے اشتیاق تھا

بنکاک ڈائری

سفر:
زمین کی سیر کرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو خوب یا کروتاکہ تم فلاح پاﺅگے۔
حقیقت حال :
عصر حاضر میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات کے باعث کراةالارض کی سیرکرنا انسان کیلئے آسان بناہوا ہے اورانسان ایک دوسرے کے قریب تر ہوا ہے اور دوسرے ممالک اور مقامات سے متعلق معلومات حاصل کرنا سہل بن گیا ہے اور دنیا کی سیر کرنے سے اللہ کے فضل و کرم کا عین الیقین ہوجاتا جبکہ زمانہ قدیم میں انسان محدود مقامات کی سیر کرسکتا تھا کیونکہ وسائل محدود تھے انسان کو دوسرے خطے کی سیر کرنے کیلئے کافی مسافت طے کرنی ہوتی تھی اور مہینوں ہا سفر کرنا پڑتا تھا لیکن اللہ کے فضل وکرم سے انسان نے اپنے شعور اور قابلیت کو بروئے کار لاکر لاجواب ایجادات سامنے لاکر دنیاکوانسان کی مٹھی لانے میں کلیدی رول ادا کیا۔بہرحال دنیا گول ہے اور اس کی سیر کرنے کیلئے انسان کیلئے کافی ذرایعے ووسائل موجود ہیں۔موقعہ ملے تو اللہ کا فضل تلاش کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔

 
منزل کی تلاش :
تھائی لینڈ کے دارالخلافہ بینکاک میں سی آر کی جانب سے صحافیوں کیلئے ایک بین الاقوامی دو روزہ تربیتی پروگرام منعقد ہونے جارہا تھا۔وادی کشمیر کے منجھے ہوئے صحافی ،قلمکار اور دانشور ڈاکٹر سید شجاعت بخاری نے تعمیل ارشاد کے مدیران اعلیٰ راجہ محی الدین اور آکاش امین سے رابطہ قائم کیا تو مجھے بحیثیت صحافی اور نمائندہ خاص نامزد کیا گیا۔بے ارادہ میراطویل سفر طے ہوا۔راحیل طاہر ایک نامعلوم نوجوان سے میرا فون پر رابطہ ہوا اور سوشل میڈیا کی مختلف وئب سائٹس کے ذریعے میرے سفری دستاویز ات حاصل کئے اور مجھے وقت وقت پر تفصیلات فراہم کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ مرتب شدہ شیڈول کے مطابق 19جنوری 2018بروز جمتہ المبارک کو صبح آٹھ بجے پندرہ منٹ دفترکی گاڑی سے جان محمد اور رخسار بشیر کے ہمراہ ہوائی اڈاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ہندوارہ نجی اسکول کے پرنسپل مشتاق احمد کے ساتھ ملاقات ہوئی۔10بجے 30منٹ ہوائی پرواز کا ا?غاز تھا لیکن 26جنوری کی مصروفیات کے باعث پروازیں روک دی گئیں۔بینکاک کیلئے گروہ میں کون کون صحافی شامل تھا معلوم نہیں تھا بہرحال ائرپورٹ پر انتظار کرنے کے دوران قومی سطح کے اخبار” دی ہندو “کے بیرو چیف برائے جموں وکشمیر پیرزادہ عاشق حسین کے ساتھ ملاقات ہوئی مذکورہ نے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا تو بشاشت ہوئی اسی اثنا میں اس کے دائیںجانب بیٹھی ایک باپردہ اور سادہ لوح مگر علم وحلم سے متعصف لڑکی کو دیکھا تو عاشق صاحب نے ان کو اشارہ کیا کہ یہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔متعارف کرنے کاکام عاشق صاحب نے خود ہی انجام دیااور معلوم ہوا کہ محترمہ مونیسہ قادری اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ پلوامہ میں صحافت ( جنرلزم) پڑھانے کی پروفیسر ہے۔ماشاءاللہ محترمہ کا رتبہ بلند پایہ تھا لیکن مزاج نرم اور گھمنڈ وتکبر سے بالاتر تھیں۔اس دوران صحافی تصدق رشیداور آکاش سے ملاقات ہوئی۔بہرحال 12:40منٹ پر بین الاقوامی ائر پورٹ سرینگر سے حسب پروگرام میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جہاز میں سوا ر ہوکر دہلی کی طرف روانہ ہوئے اور دو بجے کے قریب اندراگاندھی ائرپورٹ دہلی پہنچ گئے۔وہاں سے ہم گاڑی میں سوار ہوکر” ہوٹل ادنام“ پہنچ گئے۔کمرے الاٹ کئے گئے اور اجتماعی طور لابی میں آکر کھانے کیلئے مشترکہ ا?ڈر کیا۔اس دوران قائد کارواں سید شجاعت بخاری صاحب جن کی فلائٹ ہم سے کئی منٹ بعد ہی تھی بھی تشریف فرماہوئے اور جموں سے رائزنگ کشمیر کے نمائندہ خصوصی فیصل احمد ،جموں سے صحافی آشتوش ،فوٹو جرنلسٹ شلپا ٹھاکر اور لداخ سے رنچن آنموشامل ہوئے۔شام دیر گئے تک ہوٹل کے احاطے میں ٹہلتے رہے۔شجاعت بخاری صاحب کے متعلق میرا گمان کچھ تبدیل سا ہونے لگا کیونکہ مجھے اور ان کے درمیان ایک Gapeہوا کرتی تھی ’ توکجا من کجا“کے مصداق معاملات تھے۔اس دوران شجاعت صاحب کے زبان ودہان کے اتار وچڑھاﺅ سے ایک گائیڈ لائن حاصل ہوئی۔کمروں میں جانے کے بعد ایک بار پھر شام کے کھانے کیلئے لابی میں جمع ہوئے اسی اثناءمیں میرے مدیر اعلیٰ راجہ محی الدین جوکئی ہفتوںممبئی میں اور پھر دہلی میں قیام پذیر تھے ،بیروچیف برائے دہلی میرالطاف احمد اور نذیر چکسری کے ہمراہ ہوٹل ادنام میں ہم سے ملاقی ہوئے اور ملاقات کے چند لمحوں کے بعد ہمیں دلاسہ دیکراور حوصلہ افزائی کرکے رخصت ہوئے اور سبھی ساتھیوں نےشام کا کھانا اکھٹے کھایا پھر سوگئے۔20جنوری 2018کو صبح آٹھ بجے ناشتہ کیا اور پھر اندراگاندھی ائر پورٹ کی طر ف روانہ ہوئے جہاں پر ہمارے سفری دستاویزات کی باضابطہ طور جانچ پڑتال ہوئی اور 11;00بجے ہم جہاز میں سوار ہوکر بینکاک کی طرف روانہ ہوئے اورورنابومتھ بینکاک ائرپورٹ 2;30بجے پہنچنے بعدوہا ں سے گاڑیوں میں سوار ہوکر” گرینڈ سکھویمتھ “ہوٹل پہنچ گئےا للہ کا فضل شامل حال رہا ہم سبھی دوست صحیح سلامت منزل مقصود کوپہنچ گئے۔ہوٹل ہذا میں ”سی آر“ کی کواڈنیٹر ”الیس سیلس بیوری “انتظار کررہی تھیں۔بڑے مہذب انداز میں ”الیس “نے ہماری معاونت کی اور ہمیں راہ دکھا کر پروگرام کے حوالے سے تفصیلات فراہم کئے۔ہم تو سبھی صحافیوں نے کمروں کی چابیاں حاصل کیں اور اپنے مخصوص کمروں میں جابیٹھے۔دس بجے کے قریب ہم ہوٹل کی لابی میں جمع ہوئے اور ہوٹل میں عشایہ کیلئے الیس کی سربراہی میں چلے گئے۔ہوٹل میں پہلے سے ہی زیر انتظام پاکستان کشمیر ،گلگت ،اسلام آباد اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافی اور معزز شخصیات تھیں۔ہمارے قائد کارواں شجاعت بخاری صاحب چونکہ بین الاقوامی شخصیت ہیں کو پہچان لیا اور موصوف نے ہمار ا ان سے تعارف کروایا۔لیکن کم ہی مدت میں ہم اس طرح ہوئے کہ جیسے برسوں سے ملے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے مل کرہی کھاناکھایا جو ذائقہ دار اور لذیز تھا۔اس دوران آرپار کے حالات کو زیر غور لایا گیا۔اس کے بعد ہم سکھویمتھ ہوٹل چلے گئے اور سبھی دوستوں نے آرام فرمایا۔حسب پروگرام صبح آٹھ بجے اٹھے اور ہوٹل ہذا میں ناشتہ کیا اور پھر 9:30بجے ہوٹل کے کانفرنس ہال میں تشریف لے گئے۔
تربیتی پروگرام :
21جنوری پروگرام کے ا?غازمیں ہر ایک نمائندہ نے اپنی نشست پر بیٹھ کر اپنا اپنا تعارف دیا اورwhy u r journalist ?what is your frustration ?جیسے سوالات کے ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق جوابات دئے۔اس کے بعد وہاں پر موجود بین الاقوامی سطح کے انسٹریکٹر ”الیکس “نے صحافت کے حوالے سے چند اہم باتیں سنائے اور سکھا ئے اس دوران آرپار کے صحافیوں نے ان سے سولات بھی کئے اور خوب بحث وتمحیص بھی ہوئی اورمختلف اخبارات جن میں ٹائمز آف انڈیا ،رائزنگ کشمیر،ٹربیون وغیرہ کی اخباری سرخیاں بھی زیر بحث رہیں.حسب پروگرام 22 جنوری کو ناشتہ سے فراغت کے بعد کانفرنس ہال میں سبھی نمائندگان تشریف لے گئے اور حسب معمول” الیکس “نے صحافت سے متعلق بنیادی امورات اور سوشل میڈیا جرنلزم پر بحث و تمحیص ہوئی۔اس دوران سید شجاعت بخاری نےسوشل میڈیا کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا تاہم اس پرکنٹرول نہ ہونے سے منفی نتائج سامنے آنے کا اندیشہ ظاہر کیا اس موقعہ پر پروگرام میں موجود تمام صحافیوں نے ڈاکٹر شجاعت کے تبصرہ پر اتفاق کرتے ہوئے اپنے تجاویز پیش کیں۔
بڑی مدت کے بعد مشترکہ صحافتی فورم کا قیام :
22جنوری کے بعد برسوں سے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کی گئی کہ آرپار کے صحافیوںکی ایک مشترکہ فورم تشکیل دی جائے۔ظہرانہ کے دوران آر پار کے صحافیوں نےالگ الگ طور اس پر غور کیا اور کانفرنس ہال میںایک بار پھر جمع ہونے کے بعد ڈاکٹر سید شجاعت بخاری کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں آرپار کے صحافیوں کے علاوہ سی آر کے کوڈنیٹر بھی شامل رہے۔اس دوران سید شجاعت بخاری نے اس فورم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا قیام وقت کی پکار ہے جس پر تمام صحافیوں نے اتفاق کیا۔اس دوران تمام صحافیوں سے فورم کی تشکیل کے حوالے سے تجاویز دینے کو کہا گیا اور ہر ایک صحافی نے اپنی اپنی نشست پر بیٹھ کر اپنے تجاویزاور تعمیری مشورے زعماءکے سامنے رکھے اورمحمد ارشاد نے تمام صحافیوں ودیگر دانشوروں کے تجاویز کو قلمبند کیا اورکافی بحث و مباحثہ کے بعد فورم کا قیام عمل میںلایا گیا اس دوران متعدد ناموں پر بحث کے بعد فورم کانام ”جموں وکشمیر جوائنٹ میڈیا فورم “رکھا گیا اور اس فورم کے کنوئنیر سید شجاعت بخاری کو مقررکیاگیاتاہم اجلاس میں موجود طاہر عزیزنے مداخلت کرکے شجاعت صاحب کو اس ذمہ داری سے فارغ کرنے کی تجویز پیش کی کیونکہ شجاعت صاحب پربین الاقوامی سطح کی ذمہ داریاں عائد ہیں۔اس بات پر بھی کافی بحث ہونے کے بعد کشمیر زیر انتظام پاکستان کے منجھے ہوئے صحافی اور روزنامہ” جموں وکشمیر“کے مدیر اعلیٰ راجہ کفیل کوبہ اتفاق رائے کنونئیر مقرر کیا گیا جبکہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے منجھے ہوئے صحافی پیرزادہ عاشق حسین کو جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا۔اس دوران14رکنی ایگزیکٹیو باڑی تشکیل دی گئی۔جو تین ماہ تک عبوری رہے گی۔اس کے بعد باضابط طور انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔فورم کاآئین ترتیب دینے کےلئے سید شجاعت بخاری کی زیرنگرانی 4رکنی آئین کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔جبکہ سوشل میڈیا کو آپسی تال میل اور ہم آہنگی کے خاطرمستحکم بنانے کےلئے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔
فورم کے قیام کا بنیادی مقصد:
قائم شدہ فورم غیر سیاسی بنیادوں پر جموں وکشمیر کے آرپار صحافتی حلقے کو یکجا کرنے کا ایک پلیٹ فارم ثابت ہوگا ،اس فورم کے ذریعے آرپار اطلاعات،خبریں ،آراء،رسائل ووسائل اور صحافیوں کے مسائل اوران کی معاونت ممکن بنائی جائے
تربیتی پروگرام اور تقریب کا اختتام:۔تقریب کے اختتام پرتمام صحافیوں نے ( سی آر ) کے منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔اس دوران تشکیل شدہ فورم کے ذمہ داروںپر زور دیا گیا کہ وہ لائحہ عمل ترتیب دیکر فورم کو مستحکم بنائیں ۔ اس موقعہ پرکنوئنیر راجہ کفیل اور جنرل سیکریٹری پیرزادہ عاشق حسین نے تمام ممبران کو یقین دلایا کہ وہ فورم کےاستحکام کےلئے کلیدی رول نبھانے کی ہرممکن کوشش کریں گے تاہم انہوں نے ممبران سے بھرتعاون کا مطالبہ کیا۔اس موقعہ پر سید شجاعت بخاری نے کہا کہ یہ ہمارا برسوں کا خواب تھا جو آج پورا ہوا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس فورم کے استحکام کےلئے اپنی تکدو جاری رکھیں گے۔جبکہ امجد علی نے فورم کی تشکیل کو خوش آئندقدم قرارد یا اور کہا کہ یہ فورم ضرور مشعل راہ کےبطور ثابت ہوگی۔جبکہ طاہر مرزا نے فورم کے قیام کو ایک کامیابی قراردیا اور کہا کہ آپسی ہم اہنگی اور صحافیوں کے مسائل کے حل کےلئے فورم سنگ میل کی حیثیت رہے گی اور یہ واضح ہوا کہ فورم کاقیام غیرسیاسی ہوگا اور یہ سیاست سے بالاتر ہوکر انسانیت ،کشمیریت اور تہذیب وتمدن ،کلچرل وثقافت کو ا±جاگر کرکے صحافتی میدان میں ایک رول ادا کرے گی۔
سیروتفریح :
مرتب شدہ شیڈول کے مطابق تقریب سے فارغ ہونے کے بعدمنتظمین کی ہدایت پر ٹھیک پانچ بجے سی آر کواڈنیٹرالیس اور آرپار کے صحافی اجتماعی طور بوٹ میں سوار ہونے کےلئے گاڑیوں میں راونہ ہوئے۔اس دوران گاڑی میں بینکاک جو تھائی لینڈ کا دارلخلافہ ہے کی ڈیولپمنٹ کو دیکھ کر دھنگ رہ گئے۔کیونکہ بھارت کا درالخلافہ اس اعتبار سے کافی پیچھے ہےاور یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ بھارت اس ترقی کو صدیوں کے بعد پاسکے۔ بہرحال ہم City Riverپہنچ گئے جہاں سبھوں نے اجتماعی اور انفرادی طور فوٹو کھینچے۔اللہ کا فضل شامل حال تھا کہ آر پار کے گروپوں میں شامل سبھی دوست ملنسار اور خوش مزاج تھے اگر چہ عمرا ور قد وقامت میں تفاوت تھی تاہم ہم آہنگی نے اس تفاوت کو سرے سے ہی ختم کردیا اس سفر میںخواتین کی بھی ایک خاصی تعداد موجود تھی اور ان کو بھی یہ ہرگز محسوس نہیں ہوا کہ پرائیوں کے ساتھ اس سفر میں شامل ہیںکہ بہن بھائیوں کا رشتہ معلوم ہوا۔تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کے بعد ہم سبھی لوگ بوٹ میں سوار ہوئے۔میرے ہمسفر وں میں سے بیشتر ساتھیوں نے کئی ملکوں کی سیر کی تھی لیکن یہ بوٹ کا سفرہر ایک کےلئے منفرد اور انوکھا ہی تھا اور کئی گھنٹوں تک ہم سبھی ساتھی دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے سیاحوں کے ساتھ محو سفر رہے عشایہ کا انتظام بھی اسی بوٹ میںتھا اور مختلف قسم کے پکوان دستیاب تھے ہر ایک self serviceکے دوران من پسندغذائیات کھائے۔ قومی رسم ورواج کے مطابق بوٹ میں تھائی باشا (زبان) میں گیت سننے کو ملے اور پ±رکیف انداز میں چھوٹے بڑے ناچ گانے میں محو دکھائی دئے اور سیاحوں کی دل بہلائی کےلئے انہوں اس رسم کو برقرار رکھا ہے ۔اس دوران ”الیکس “کے ساتھ طویل بات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ چھ سال سےایک اخباری نمائندہ کی حیثیت سے بینکاک میں اپنی منصبی ذمہ داریاںانجام دے رہا ہے۔تھائی لینڈ کے وسائل کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا”اس ملک میں فصلیں بشمول دھان ،گیہوں،سبزیاں ،ترکاریاں وغیرہ اور سیاحت کے علاوہ کپڑے کی فیکٹریاں موجود ہیں جو ان کے اقتصادی ومعاشی ترقی کے موجب ہیں “بوٹ کی سواری ایک یاد گاری سفر معلوم ہوا۔بہرحال بوٹ سے اترنے کے بعد واپسی کی راہ لی اور گرینڈ سکھویمتھ ہوٹل پہنچ گئے۔رات دیر گئے تک ہوٹل کی لابی میں سبھی ساتھی بیٹھ گئے اور حالات وواقعات بالخصوصی نجی زندگیوںپر تبادلہ خیال کیا۔
سفر کی تازہ یادیں:
اس طویل سفرکے دوران دلی سے لیکر بینکاک تک قائد کارواں سید شجاعت بخاری کا جو رول رہا میں ذاتی طوراس طرح متاثر ہوا جس کا مجھے اندازہ نہیں تھا کیونکہ شجاعت صاحب کئی اخباروں کے مدیر اعلیٰ ہونے کےساتھ ساتھ عالمی سطح کی شخصیت) personality intenationalہیں اس کے باوجود جو رہبری اور جو سلوک انہوں نے جملہ ساتھیوں کے ساتھ روا رکھا وہ بذات خودمیرے لئے ایک تاریخ ہے کیونکہ راقمِ سفر نامہ پہلی مرتبہ بیرون ملک کی سیر پر تھا لیکن جس انداز سے سید شجاعت صاحب نے ہمت و حوصلہ افزائی کی کہ معلوم نہیں ہوا کہ ہم لوگ کسی اجنبی ملک میں مسافر ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ واقعی معلوم ہوا کہ سید شجاعت بخاری صاحب ایک منجھے ہوئے صحافی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پران کو منفرد اور ممتاز اعتباریت حاصل ہے اور یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ وادی کے اس درخشان ستارے نے عالمی سطح پراپنی قابلیت اور ذہانت کاسکہ جمادیا ہے۔اس بے باک شخصیت کی قابلیت اور صحافت کا جورعب راقم پر طاری تھا وہ محبت میں تبدیل ہوا اور اس سفر سے موصوف میرے لئے ایک استاد ،رہبر اور قائد معلوم ہوئے۔لوگوں کی رائے اس ممتاز شخصیت کے بارے کیا ہوگی لیکن جب حقیقت کی عینک سے دیکھا جائے تو ایک مسیحا ،انسان دوست ،قابل اور محسن پائیں گے جس طرح ایک لحظ ولمحہ میں میرا گمان ہی بدل دیا اور واضح رہے کہ منتظمین پروگرام اورآپارکے صحافیوں نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ جوائنٹ میڈیا فورم کا قیام انکے برسوں کا خواب تھاجو بینکاک کی میٹنگ میں شرمندہ تعبیر ہوا اور سید شجاعت بخاری صاحب کو اس فورم کا روح رواں قرار دیا۔
پیرزادہ عاشق حسین جو ”{JKJMF]کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے سرینگرکے ایک منجھے ہوئے صحافی ہیں اور قومی اخبار ”دی ہندو “کے بیرو چیف ہیں سفر کے دوران ان کی شرافت ،ملنساری اور انسان دوستی سے اس حد تک متاثر ہوا کہ چاہتاہوں دوست ہوتو ایسا ،کیونکہ عاشق صاحب تکبر،کینہ ،بغض ولالچ سے مبراہ ہیں اور قابلیت ان کی ایک شناخت ہے۔اس بندہ خدا نے سرینگر کے لالچوک پہنچنے تک بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کی شریک حیات مسرت جی کا رول بھی کسی ہمددری سے کم نہیںتھا۔اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں صحافت پڑھانے والی پروفیسر” مونیسہ قادری“ جس نے کئی ملکوں کا دورہ کیاہے ایک پروفیسر ہونے کے باوجود ان کا بحیثیت ایک صنف نازک کے جو طور طریقہ میں نے سفر کے دوران دیکھا تو واقعی ایک نیک سیرت ،ملنسار ،بے باک اور انسان دوست شخصیت ہیں اور پروفیسر مونیسہ نے ایک سگی بہن کی طرح سفر کا ساتھی بن کے بھر پور رہبری کی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس برہنگی کے ماحول میں ان کا دوپٹا ان کے سرہانے ہی رہا اور وہاں پر بھی ان کے استاد ہونے کاانداز ہ بھر پور ہوا۔ معروف انگریزی اخبار کے نمائندہ خصوصی فیصل یاسین کی مزاحیہ مزاجی نے دل چرالیا اور سفر کے دوران ہر مزاق اور چیلنج کا مردانہ مقابلہ کیا۔تصدق رشید کے ساتھ اگر چہ پہلے سے ہی جان پہچان تھی اور فیس بک فرنڈ ہونے کے ناطے کبھی کبھار خیروعافیت معلوم ہوتی تھی تاہم ان کی اس ذہانت کا اندازہ نہیں تھا جس کا مظاہرہ اس نے ٹرینگ وتقریب اور سفر کے دوران کیاقابل داد ہے ان کی ذہانت و قابلیت۔ آکاش چونکہ ایک طالب علم ہے لیکن ان کی قابلیت قابل ستائش اور حوصلہ بخش ہے ایک ہونہار نوجوان ہونے کا بھر پور مظاہرہ کیا۔جموں کے منجھے ہوئے صحافی آشتوش کے ساتھ جونہی ملاقات ہوئی تو ایسا لگا جیسا برسوں سے ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔وہ سرحدوں کی رپورٹنگ کرنے کے ماہر ہیں اور ان سے کافی معلومات حاصل ہوئیں۔جموں کی نوجوان اور ہونہار فوٹو جرنلسٹ شلپا ٹھاکر کی طفل مزاجی اور ملنساری کے علاوہ ہنس مکھ اور characteredتھیں اور ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھنے میں کامیاب ہوئی اورغیر یا پرایاہونے کا کوئی احساس نہ دلایا۔ لداخ کی صحافیہ رنچن آنمو بھی ملنسار اور خلق اور خلوص سے سرشار تھیں۔
وہ پار کے ساتھی:
ہم سے وہ ملے جن کا مدتوں سے اشتیاق تھا ہم سے وہ بچھڑے ہوئے دوست ملے جن کے الگ ہونے کے بعد آنکھوں سے آنسوﺅں کا سیلاب پھوٹ پڑا اوران کے جذبات دوریاں مٹانے اور خونی لکریں ہٹانے کا اشارہ کررہی تھیں۔ پار کے ساتھیوں میںتین خواتین بھی شامل تھیں جن میں سے دو خواتین ہمارے کشمیر سے تعلق رکھتی تھیں جن میں محبوبہ النساءاور ڈاکٹرشاہینہ اختر شامل تھیں جن کی شادی پاکستان کے زیرانتظام گلگت بلوچستان میں ہوئی لیکن حالات کی ستم ظریفی نے ان کو اپنوں سے بھی جدا کیا ہے ہم تو ان کے ظاہری طور پرائے تھے لیکن جب محبوبہ النساءکشمیر بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والی ہے اپنی داستان بیان کی ایسالگتا تھا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے ہمکلام تھیں۔محبوبہ النساء80کی دہائی میں ایگریکلچرآفیسر کی حیثیت سے محکمہ ایگریکلچر میں کام کرتی تھیں اور سوپور کے مضافات میں اپنی ڈیوٹی انجام دی ہے۔ اب آج بھی زرعی پیدوار کے جدید تجروبوں کے بارے گلگت میں لوگوں کوجانکاریاں فراہم کرنے کے کام میں مشغول ہیں اور” ندا پاکستان “کے نام ایک غیرسیاسی تنظیم چلارہی ہیں۔جب رخصت ہوئے تو نالہ زاری کرتے ہوئے ہماری آنکھوں کوبھی بھیگی کردیا جبکہ ڈاکٹرشاہینہ اختر بارہمولہ کنڈی علاقہ سے تعلق رکھنے والی تھیں۔اب دہائیوں سے اپنوں سے بچھڑ گئی ہے۔زیر انتظام پاکستان کے” خبر نامہ“ کی نمائندہ خصوصی سیدہ فائزہ گیلانی نے تمام صحافی ساتھیوں بالخصوص ہم جنس ساتھیوں پروفیسر مونیسہ قادری اور شیلپا ٹھاکر کے ساتھ ہمدم تھیں۔طاہرصاحب کی ذہانت اور قابلیت کا اندازہ کے طرز کلام سے صاف ظاہر ہوتی تھی اور عالمی سطح کے حالات و واقعات سے روشناس ہیں ان کے ساتھ ہمکلام رہنے سے ایسے تاریخی معلومات حاصل ہوئیں جو مستقبل میں بطور مشعل راہ ثابت ہونگے۔ شیخ ارشاد بھی ایک پ±روقار شخصیت اور منجھے ہوئے صحافی بھی اس کارواں کےحصہ تھے نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے فورم کے مجلس شوریٰ کو مستفید کیا ،دی نیشن اخبار کے مدیر اعلیٰ اور اے جے کے نمائندہ خصوصی الطاف حمید راﺅایک سینئر صحافی تھے عمر کی تفاوت کو یکسر نظر انداز کرکے ہرایک کے ساتھ خوش خرم رہےاور ہردم ہر ساتھی کےساتھ محو گفتگو رہے .راجہ عثمان طاہرجو” دنیاٹی وی“ اسلام آباد کے بیرو چیف ہیں اس قافلہ کا ایک رکن تھا میرے ساتھ کافی دیر تک ہمکلام ہوئے اور اپنا Family BACK Ground بتانے کے علاوہ اپنے ننھے منھے بچوںکےفوٹو گرافس دکھا کر راقم الحروف کو مسرور کردیا۔پاکستان کے معروف ٹی وی چینل ”جیو“کے خصوصی نامہ نگارمحمد عارف عرفی ایک منجھے ہوئے صحافی ہیں۔تند وتیز لہجہ کے ساتھ ایک پکا اور بے باک دوست ثابت ہوا اور ہر بات پر بحث کے دوران تاریخی ادوار کاضرور ذکر کیا کرتے تھے اور قائل کرنے کا انداز بیان تھا۔فورم کے مقرر کرہ کنووینئر راجہ کفیل ایک سینئر صحافی ہیں اس پار کشمیر کی مانی جانی شخصیت ہونے کے علاوہ شریف النفس اور مدبر ہیں۔میرے حقیر آرا¾ پر بھی غور کرنے کا یقین دلایا اور فورم کے حوالے سے ثابت قدمی اور بلاخوف تردد کے چلانے کاعزم دہرایا۔روزنامہ ”دھرتی“ کے مدیر اعلیٰ عابد صدیقی صاحب کافی سنجیدہ طبیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ شریف النفس اور ملنسار ہیں اور ہر بات کا جواب سنجیدگی اور نرمی کے ساتھ دیتے تھے۔پار کے ایک منجھے ہوئے صحافی اور فری لانسر” شبیر میر “جو بیشتر ٹی وی چینلز اور اخبارات کے زینت بنتے ہیں کے ساتھ ملاقات ہوئی تو ان کو ایک پ±روقار ،پ±رعزم اور انسان دوست شخصیت پایا ان سے ہمکلام ہونے پرمیں ذاتی طور کافی متاثر ہوا کیونکہ ان کے ہرکلام میں سبق آموز باتیں سننے کو ملیں۔اس کے علا وہ شبیر میر صاحب کی آہستہ زبان لیکن مدبرانہ طرز بیان بجائے خود شخصیت کے ساتھ میل کھاتا ہے ۔خواجہ متین اس پار کی ایک اہم شخصیت تھی جو بظاہر ایک روٹھے ہوئے لگتے تھے لیکن مزاج سادہ اور حسن اخلاق کے مالک ہیں۔
سی آر کی کوڈنیٹر” الیس بیوری “جو ایک انگریز خاتون تھیں لیکن ان کا مہذبانہ وطیرہ ہوش مند انسانوں کےلئے ایک سبق تھا الیس نے کشمیر کا دورہ کرکے یہاں کے حالات کا جائزہ بھی لیاہے اوریہاں کے حالات سے پوری طرح واقف ہیں ان کا مہذب ہونے کا اندازہ مجھے اس وقت ہواجب اس نے فوٹو کھینچتے وقت اسرار کرتے ہوئے منع کیا کہPlz dont share on the facebook or other websitsان کے اس مہذبانہ کلام نے مجھے کافی متاثر کیا کیونکہ موجودہ دور میں بیشتر بالخصوص خواتین کےلئے یہ سماجی ویب سائٹس ان کی ظاہری زینت بن گئی ہے۔اسکے علاوہ الیس کشمیر میں حالات کی وجہ سے یتیم ،بیوہ اور معذور افراد کے حوالے سے فکر مند ہے۔
بہرحال دن گذرنے کے بعد بھی آرپار کے ساتھیوں کا سفر کے دوران گذرے لمحات ا?ج بھی ہمارے سینوں میں پیوست ہیں اور وہ۔۔۔۔۔مزے مزے کی حکایتیں ،وہ بات بات پرہنسنا۔۔۔۔تمہیں یا ہو کہ نہ یاد
ہوٹلوں میں غذائیات :
ہوٹلوں میں مختلف قسم کی سبزیاں جو بیشتر ہمارے یہاں بھی عام ہیں اس کے علاوہ گوشت ،پنیر ،مرغے اور مختلف قسم کی مچھلیاں اسٹالوں پر دو قسم کے لگے ہوتے تھے حلال اور حرام ، مسلم حلال اور غیر مسلم حرام پکوان کھاتے تھے۔ہم نے گوشت کو AVOIDکیا کیونکہ وہ ہمارے طرز پر تیار کیا ہوا نہیں تھا ۔
بینکاک کے متعلق عام نظریہ لیکن۔۔۔؟:
بینکاک جو تھائی لینڈ کا دارالخلافہ ہے کو بے حیائی اور بے پردگی کا اڈہ مانا جاتا ہے اس میںدو راہے نہیں ہے کہ ایک مخصوص طبقہ برائی کی اس لت میں مبتلاہے اور بے پردگی عام ہے لیکن اسی پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ملک کے لوگ محنت کش ،دلیر ،خوش فہم اور نرم مزاج ہیں اور کوئی اپنے کام میں مگھن دکھائی دیا۔بے پرواہ ہوکر اپنی تجارت کے ذریعے اپنی معشیت کو بڑھانے کےلئے فکرمند پائے گئے۔میں اجنبی اس بڑے شہر میں اکیلا مارکیٹ جاتے وقت راستہ بھول گیا تو عام لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑا۔راستے کی تلاش میں ان سے مدد مانگی کئی ایک اشخاص مجھے برابر میرے پتہ میرے ساتھی بنے۔اس دوران ان کے ساتھ انگریزی چند باتیں کی جو کم ازکم ان کو سمجھ آتی تھیں تو معلوم ہوا ان کا رہن سہن کافی سادہ لیکن شاہانہ اورکاشتکاری و سیاحت کو عروج بخشنے کےلئے وہ ہردم تن دہی اور محنت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔work like a collei live like a princeکا مزاج ان میں پایا۔وہاں کی تعمیراتی ڈھانچے یا بازار اتنے خوبصورت اورمزین ہیں۔ایسالگتا ہے کہ بھارت دوسو سال کے بعد اس ملک کی ترقی کو چھو سکتا ہے کیونکہ بھارت اس طرح ترقی کے حوالےسے کچھوے کی چال چلتا ہے اورجس ملک میں افراتفری ،فرقہ وارانہ فسادات اورفرقہ پرستی کا چلن ہو اس کی ترقی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

Comments are closed.