شوپیان ہلاکتیں :فوج کے خلاف ایف آئی سے ’یو ٹرن ‘ واقعہ کو سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش :عمر عبداللہ

سرینگر:فوجی کے خلاف ایف آئی آر سے ’یو ٹرن ‘لینے پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت شوپیان ہلاکت خیز واقعے کو سرد خانے میں ڈالنا چاہتی ہے ۔انہوں نے پہنو شوپیان میں چار نوجوانوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات مطالبہ کیا ۔

سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آر می میجر آدتیہ کمارکے خلاف درج ایف آئی آر پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں ریاستی حکومت کے موقف پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ دبا ﺅ میں آکر ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ آف انڈیا کو بتایا کہ میجر آدتیہ کے خلاف شوپیان ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے ۔

یاد رہے کہ امسال جنوری کے مہینے میں فوج کی فائرنگ سے تین شہریوں کی موت ہوئی تھی ۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ایوان اسمبلی میں دئے گئے بیان میں سوالیہ بھی لگا دیا ۔انہوں نے کہا’ایوان اسمبلی میں محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ ایف آئی آر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا ،لیکن پھر کیا ہوگیا؟انہوں نے یہ بات ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ کہی،ایف آئی آر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا ۔

ان کا کہناتھا کہ لیکن ایف آئی آر کو منطقی انجام تک پہنچا نے کے بجائے سپر یم کورٹ آف انڈیا میں الگ ہی موقف رکھا گیا ۔عمر عبداللہ نے حکومت نے دباﺅ میں آکر واقعہ کو سرد خانے میں ڈال دیا ۔انہوں نے پہنو شوپیان میں چار نوجوانوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات مطالبہ کیا ۔ان کا کہناتھا کہ شہری ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ میجر آدتیہ کمار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ میجر آدتیہ کمار پر کشمیر کے شوپیاں ضلع میں پتھراﺅ کر رہی بھیڑ پر فائرنگ کر مبینہ طور پر تین شہریوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔جموں و کشمیر پولیس نے میجر آدتیہ کمار کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔تاہم ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ میجر آدتیہ کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہے ۔

Comments are closed.