آئی ٹی سی کے دعوﺅں میں ہیرا پھیری، جی ایس ٹی کو لیکر سخت نگرانی کی ضرورت

اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کی حالیہ اصلاحات جن کا مقصد تعمیل کو آسان بنانا اور ضروری اشیاءپر لاگت کو کم کرنا ہے کا صنعتوں اور صارفین کے گروپوں میں وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے تاہم سیمنٹ اور آٹوموبائل جیسے اہم شعبوں میں ٹیکس چوری کے طریقوں پر خدشات بڑھ رہے ہیں، ممکنہ طور پر اصلاحات کے فوائد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ جن اصلاحات کا اعلان کیا گیا تھا ان میں ضروری اشیاءکی شرح میں کمی اور ریٹرن فائل کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانا شامل ہے۔

جب کہ اصلاحات کا مجموعی ردعمل مثبت رہا ہے، صنعت کے اندرونی ذرائع اور ٹیکس ماہرین نے مختلف صنعتوں میں بعض کھلاڑیوں کی جانب سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (ITC) کے طریقہ کار کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کچھ مینوفیکچررس ٹیکس سے بچنے کیلئے اپنی پیداوار کے حجم کو کم رپورٹ کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض فیکٹریاں اصل میں پیدا ہونے والی پیداوار کی مقدار نہیں دکھاتی ہیں لیکن جی ایس ٹی سے بچنے کیلئے اصل سے کم دکھاتی ہیں۔ بقیہ پیداوار مناسب انوائسنگ کے بغیر فروخت کی جا رہی ہے، جس سے حکومت کے لیے اہم محصولات کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طریقوں میں آئی ٹی سی کے دعووں میں ہیرا پھیری شامل ہے۔

آٹوموبائل انڈسٹری کو ماضی میں درجہ بندی کے تنازعات اور ITC کے غلط استعمال پر بھی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ تازہ ترین اصلاحاتی نظام کے تحت سرکاری طور پر کوئی کیس رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سخت چوکسی رکھنے کی ضرورت ہے اور یہاں ایسے کسی بھی فراڈ کی انکوائری کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.