شوپیان مارچ کے پیش نظر سرکاری پابندیاں اور بندشیں

سری نگر،شوپیان: ”ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بندشیں،ناکہ بندی ا ورسخت سیکورٹی“ہونے کے بیچ ”مزاحمتی لیڈرشپ کی کال پرشہری ہلاکتوں اورمقامی قیدیوں کی جموں منتقلی کیخلاف مکمل ہڑتال“ رہی ۔شہرسر ینگرسمیت شمال وجنوب پوری وادی میں بازار،کاروباری مراکزاورتعلیمی ادارے مقفل رہے جبکہ مسافرگاڑیاں غائب رہنے کے باعث سرکاری دفاترمیں ملازمین کی حاضری بھی برائے نام رہی جبکہ حکام نے7مارچ کولئے جانے والے سبھی طرزکے امتحانات کوپہلے ہی ملتوی کردیاتھا۔

اس دوران سیدعلی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے خانہ نظربندی کاحصارتوڑتے ہوئے حیدرپورہ اورنگین سے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس اورفورسزنے دونوںمزاحمتی قائدین کواسکی اجازت نہیں دی ۔سیدعلی گیلانی کوواپس گھرکے اندرلیجاکر خانہ نظربندکردیاگیاجبکہ میرواعظ کوحراست میں لیکرنزدیکی پولیس تھانہ میں بندرکھاگیا۔

اُدھرریاستی پولیس نے امن وامان کی صورتحال قائم رکھنے کیلئے عوام سے تعاون طلب کرتے ہوئے واضح کیاکہ سری نگرشہراورشوپیان کے حساس علاقوں میں احتیاطی اقدام کے بطورپرپابندیاں رکھی گئی ہیں ۔پولیس نے عوام کوافواہوں پرکان نہ دھرنے کامشورہ دیتے ہوئے ضرورت پڑنے پرہنگامی نمبر100پررابط کرنے کوبھی کہا۔

ق4مارچ بروزاتوارکی شام ضلع شوپیان کے پہنوگاﺅں میں فائرنگ کے ایک واقعے کے دوران 4مقامی معصوم نوجوانوں کی ہلاکت اورلشکرکمانڈرنویدجاٹ کے فرارہوجانے کے بعدسری نگرسینٹرل جیل سے مقامی نظربندوں کوجموں کی جیلوں میں منتقل کئے جانے کیخلاف سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک پرمشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال اورشوپیان چلوکال کی وجہ سے بدھ کے روزپورے کشمیر میں معمول کی عوامی ،کاروباری اورانتظامی سرگرمیاں بُری طرح سے متاثررہیں۔

سری نگرشہرکے ساتھ ساتھ بارہمولہ ،سوپور،کپوارہ ،ہندوارہ ،کرالہ پورہ ،ترہگام ،لنگیٹ ،بانڈی پورہ ،سمبل ،حاجن ،گاندربل ،بڈگام ،چاڈورہ ،بیروہ ،ماگام ،نارہ بل ،کنگن ،پلوامہ ،اونتی پورہ ،ترال ،پانپور،کولگام ،قاضی گنڈ،اسلام آباد،بجبہاڑہ اورشمال وجنوب بیشترقصبہ جات میں دکانات ،کاروباری مراکز،نجی دفاتر اوردیگرکاروباری وعوامی سرگرمیوں کے حامل مراکزبندرہے ۔ ریاستی محکمہ تعلیم اورکشمیریونیورسٹی انتظامیہ کے پیشگی احکامات کی بناءپرتمام تعلیمی ادارے بشمول اسکول ،کالج اوریونیورسٹیاں بھی بندرہیں جبکہ حکام نے7مارچ کولئے جانے والے سبھی طرزکے امتحانات کوپہلے ہی ملتوی کردیاتھا ۔اس دوران لالچوک سرینگرسمیت وادی کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں سناٹاچھایارہا۔

ہڑتال کی وجہ سے اہم شاہراہیں اورسڑکیں بھی سنسان دکھائی دے رہی تھیں کیونکہ پبلک یامسافرٹرانسپورٹ غائب رہا۔گاڑیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمین بھی اپنی ڈیوٹیوں پرنہیں پہنچ سکے جسکے نتیجے میں سرکاری محکموں اوردفاتر کاکام کاج بھی متاثررہا۔ادھرحالیہ کچھ دنوں میں یکے بعددیگرے شہری ہلاکتوں کے 2واقعات سے مغموم ضلع شوپیان کے ضلعی صدرمقام سمیت سبھی حساس علاقوں کوپولیس اورفورسزدستوں نے سیل کررکھاتھاتاکہ مزاحمتی لیڈرشپ کی جانب سے دی گئی شوپیان چلوکال یاپروگرام کوناکام بنایاجاسکے ۔

شوپیان قصبہ سمیت ضلع کے کچھ حساس مقامات پردفعہ144کے تحت سخت بندشیں اورپابندیاں عائد کی گئیں ،اوران سبھی علاقوں میں کسی بھی صورتحال کافوری مقابلہ کرنے کیلئے بڑی تعدادمیں پولیس اورسی آرپی ایف اہلکاروں کودستوں یاٹکڑیوں کی صورت میں سریع الحرکت رکھاگیاتھا۔شوپیان کے لوگوں نے بتایاکہ اس پہاڑی ضلع کوپولیس وفورسزکے ساتھ ساتھ فوجی دستوں نے بھی چاروں اطراف سے سیل کررکھاہے جبکہ مختلف اضلاع سے شوپیان کوملانے والی شاہراہوں اوررابطہ سڑکوں پرجگہ جگہ پولیس وفورسزاورفوج کی جانب سے خاردارتاریں اوردیگرچیزیں ڈالکررکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں ۔

ادھر شہر سری نگرکے تاریخی شہرخاص کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی دفعہ144کے تحت سخت بندشیں اورپابندیاں عائدکی گئیں ۔شہرخاص کے لوگوں نے بتایاکہ رابطہ سڑکوں پرجگہ جگہ پولیس وفورسزاورفوج کی جانب سے خاردارتاریں اوردیگرچیزیں ڈالکررکاوٹیں کھڑی کی گئیں اورگاڑیوں کی آواجاہی پرمکمل روک لگائی گئی جبکہ لوگوں کوپیدل چلنے سے بھی روکاگیا۔ اُدھرریاستی پولیس نے امن وامان کی صورتحال قائم رکھنے کیلئے عوام سے تعاون طلب کرتے ہوئے واضح کیاکہ سری نگرشہراورشوپیان کے حساس علاقوں میں احتیاطی اقدام کے بطورپرپابندیاں رکھی گئی ہیں ۔پولیس نے عوام کوافواہوں پرکان نہ دھرنے کامشورہ دیتے ہوئے ضرورت پڑنے پرہنگامی نمبر100پررابط کرنے کوبھی کہا۔

اس دوران میرواعظ عمرفاروق نے خانہ نظربندی کاحصارتوڑتے ہوئے ایک احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس اورفورسزنے سینئرمزاحمتی قائدکوحراست میں لیکرنزدیکی پولیس تھانہ میں بندرکھا۔حریت(ع) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دئیے گئے پروگرام کے تحت میرواعظ عمرفاروق نے خانہ نظربندی کاحصارتوڑتے ہوئے اپنی رہائش گاہ واقع نگین حضرتبل سے ایک جلوس کی صورت میں شوپیان جانے کی کوشش کی لیکن یہاں پہلے سے ہی بڑی تعدادمیں تعینات پولیس اورفورسزاہلکاروں نے میرواعظ کی قیادت میں برآمدہوئے احتجاجی مارچ پرروک لگاتے ہوئے حریت(ع) چیئرمین کوحراست میں لیکرایک پولیس گاڑی میں سوارکیا،جسکے بعدمیرواعط عمرفاروق کونزدیکی پولیس تھانہ نگین پہنچاکریہاں بندرکھاگیا۔گرفتاری سے قبل میڈیانمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے میرواعظ نے اپنے اس موقف کااعداہ کیاکہ افسپاءکے تحت حاصل لامحدوداختیارات اورقانونی کارروائی سے مستثنیٰ فوج اورفورسزکوبناءپوچھے پاچھے کسی بھی معصوم اوربے گناہ شہری کوموت کی نیندسلادینے کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے ،اوریہی وجہ ہے کہ آئے دنوں معصومین کی ہلاکتوں کے بلاجوازاورالمناک واقعات رونماہورہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں لاقانیت اورسیاسی انتقام گیری کایہ عالم ہے کہ اب مزاحمتی لیڈروں کومہلوک شہریوں کے غمزدہ لواحقین کی ڈھارس بندھائی کی اجازت تک نہیں دی جاتی ہے بلکہ قائدین اورکارکنوں کوگھروں ،تھانوں اورجیلوں میں بندرکھاجاتاہے ۔میرواعظ نے کہاکہ مزاحمتی لیڈروں اورکارکنوں کیخلاف جاری کریک ڈاﺅن انتہائی آمرانہ طرزعمل کاعکاس ہے۔اس دوران بزرگ مزاحمتی قائدسیدعلی گیلانی نے بھی خانہ نظربندی کونظراندازکرتے ہوئے اپنی رہائش گاہ سے باہرآکرشوپیان جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اُنھیں ایساکرنے سے بازرکھااورواپس گھرکے اندرلیجاکرخانہ نظربندکردیا۔

حریت(گ) کے ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین سیدعلی گیلانی کی رہائش گاہ واقع پیرباغ حیدرپورہ کوپولیس اورفورسزنے سخت محاصرے میں لے رکھالیکن اسکے باوجودبزرگ قائدنے بدھ کودن کے سوا12بجے اپنی رہائش گاہ سے باہرآکرشوپیان جانے کی کوشش کی ۔ذرائع نے بتایاکہ پولیس اورسی آرپی ایف کے اہلکاروں نے سیدعلی گیلانی کاراستہ روکا،اورانھیں شوپیان جانے کی اجازت نہیں دی جبکہ ذرائع کے مطابق اسکے بعدحریت(گ) چیئرمین کوواپس گھرکے اندرلیجاکرخانہ نظربندکردیاگیا۔ دریں اثناءمنگل کی شام پولیس ترجمان نے کشمیرمیں دن بھرکی صورتحال کواطمینان بخش قراردیتے ہوئے کہاکہ وادی میں کسی بھی جگہ سے کسی ناخوشگوارواقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی بلکہ عام لوگوں نے امن وامان کی صورتحال کوقائم رکھنے میں انتظامیہ کومکمل تعاون فراہم کیا۔

Comments are closed.