ہندوارہ میں شوپیاں ہلاکتوں کے خلاف انجینئر رشید کی قیادت میں احتجاج
ہندوارہ :ہندوارہ میں پولیس کی بندشوں کے باوجود سینکڑوں لوگوں نے اے آئی پی سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید کی قیادت میں شوپیاں ہلاکتوں کے خلاف زوردار احتجاج کیا ۔ مظاہرین فوج کے ظلم و ستم ، طاقت کے بے تحاشہ استعمال اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف ہاتھوں میں کالے جھنڈے لئے اور زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے ہندوارہ چوک کی طرف بڑھنے لگے تاہم پولیس کی ایک جمعیت نے انہیں روکا اور انجینئر رشید کو گرفتار کرکے ہندوارہ تھانے میں نظر بند کر دیا ۔
گرفتار ی سے قبل انجینئر رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نئی دلی نے فوج کو کشمیریوں کو مارنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا ”شوپیاں میں کل ہوئی ہلاکتوں کا بالکل کوئی بھی جواز نہیں ہے ۔ جس طرح سرکاری افواج اب صرف فرضی کہانیاں بنا کر شک کی بنیاد پر کشمیریوں کو گولیوں سے بھون رہی ہیں اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
حد تو یہ ہے کہ ایک طرف شوپیاں میں چھ نہتے شہریوں کو گولیاں مار کر جاں بحق کیا گیا تو دوسری طرف سپریم کورٹ نے کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر میجر آدتیہ کے خلاف ایف آئی آر پر روک لگا دی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہندوستانی سپریم کورٹ سے لیکر سیاسی قیادت تک فو ج کی قتل و غارت گری کو قومی خدمت سمجھ کر شاباشی دے رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ میں میجر آدتیہ کے خلاف درج ایف آئی آر کے متعلق رویہ نرم کرنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ محبوبہ مفتی سرکار بے بس ہے اور کشمیریوں کو قتل عام روکنا اس کے باس کی بات نہیں “۔
انجینئر رشید نے ہندوستانی میڈیا کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بیشتر ٹی وی چینلیں نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے بھاگ رہی ہیں بلکہ ان کی ہی شہہ پر فوج کشمیریوں کو بلا جھجک مار رہی ہے تاکہ ہندوستانی لوگوں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ فوج نہ صرف قوم پرست بلکہ زبردست بہادر بھی ہے ۔ انجینئر رشید نے بین الاقوامی برادی کی مجرمانہ خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کشمیرمیں مسلم انتہا پسندی کی ہوا کھڑا کر رہے ہیں اصل میں ان کے عزائم اہل کشمیر کی سیاسی تحریک کو بدنام کرنا اور کشمیریوں کے مارنے کو جواز فراہم کرنا ہے ۔ انجینئر رشید نے ہندوستانی فوج کی قیادت سے سوال کیا کہ اُس کے ان دعوﺅں کی اعتباریت کہاں گئی جس کے مطابق فوج نہ صرف خود کو نظم و نسق کا پابند بلکہ عوام دوست ہونے کا روز دعویٰ کرتی تھی ۔
انجینئر رشید نے کشمیریوں سے متحد ہوکر سیاسی جد و جہد کو مضبوط بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ بکھری ہوئی قیادت اور منتشر ذہن کشمیریوں کی تباہی کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ انجینئر رشید نے کہا کہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے جس طرح پرسوں ہی افسپا کے حق میں قصیدے پڑھے تھے در اصل فوج نے اسے شہہ پاکر چھ اور کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ حالات و واقعات یہ مطالبہ کرنے کیلئے کافی ہیں کہ افسپا کے اندھے اور کالے قانون کو اب ختم کیا جانا چاہئے ۔
Comments are closed.