مثالی پبلشر خواجہ نُور محمد کی ۳۵ ویں برسی پر مرحوم کوشایانِ شان خراج
سرینگر۵ مارچ ۸۱۰۲کشمیر کے مثالی پبلشر خواجہ نُور محمد جنہیں عام طور غلام محمد، نُور محمد تاجرانِ کُتب کے نام سے جانا جاتا ہے، کی ۳۵ ویں برسی پر اُنہیں شایانِ شان خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں آج اکیڈیمی کے صدر دفتر واقع لال منڈی میں ایک پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں خواجہ نُور محمد کی حےات اور کارناموں کا احاطہ کرنے والے کئی مقالات پیش کئے گئے اور مُقررین نے اُن کو شایانِ شان خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کی صدارت نامور شاعر، قلمکار اور صحافی غلام نبی خیال نے انجام دی، جبکہ خواجہ نُور محمد کے فرزند غلام حمزہ اور اکیڈیمی کے چیف ایڈےٹر محمد اشرف ٹاک بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔ اس موقعے پر غلام محمد نُور محمد تاجرانِ کُتب کی طرف سے شایع کردہ بعض نادر و نایاب کتابوں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
تقریب میں ڈاکٹر جوہر قدوسی کا تحریر کردہ مقالہ پیش کیا گیا۔ صدارتی تقریر میں غلام نبی خیال نے خواجہ نُور محمد کو کشمیر کا مُنشی نوَل کِشور قرار دیا جنہوں نے وسائل کی کمی کے باوجود سینکڑوں کتابوں کو زیورِطباعت سے آراستہ کرایا اور یوں کشمیر ی کے کلاسیکی ادب کو گمنامی کے اندھیروں میں جانے سے بچالیا۔
اس سے قبل اکیڈیمی کے چیف ایڈےٹر محمد اشرف ٹاک نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہا کہ اکیڈیمی ہر سال پانچ مارچ کو خواجہ نُور محمد کی برسی کے سلسلے میں تقاریب کا اہتمام کرتی ہے۔ تاکہ اس مایہ ناز پبلشر اور علم دوست شخصےت کے کارناموں کو اجاگر کیا جاسکے۔ جن دیگر شخصےات نے تقرےب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا اُن میں مولانا شوکے حُسین کینگ، اعجاز محمد ککرو، محمد امین بٹ، شکیل الرحمان، ڈاکٹر سید افتخار، مقبول ساجد، شبیر ماٹجی وغیرہ شامل ہیں۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سلیم سالک نے انجام دئے۔اس موقعے پر ادیبوں، قلمکاروں ، دانشوروں ، صحافیوں اور نُور محمد کے مداحوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔
Comments are closed.