جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کا سرینگر اور جموں میں مطالبات کو لیکر احتجاج
تنخواوں کی ڈی لنک، ٹرانسفر پالیسی ،اساتذہ کی مستقلی اور ٹائم باونڈ پروموشن کو روکے رکھنا قابل افسوس :فاروق تانترے
جموں، سرینگر:نیا تعلیمی سیشن شروع ہونے سے دو روز قبل جموں کشمیر رہبر تعلیم اساتذہ نے سرینگر اور جموں میں اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔احتجاجی اساتذہ نے سرکار پر اُنکے جائز مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا جبکہ دھمکی دی کہ اگر اُنکے مطالبات کو فوری طور پر پورا نہیں کیا گیا ،تو تعلیمی اداروں کو مقفل کیا جائیگا ۔
جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کی طرف سے اپنی مانگوں کو لیکر دی گئی ریاست گیر احتجاجی کال کے پیش نظر ریاست کی گرمائی راجدھانی سرینگر پریس کالونی اور سرمائی راجدھانی جموں کے پریس کلب میں ہزاروں کی تعداد میں رہبر تعلیم اساتذہ جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کو لیکر احتجاج کیا۔ اس موقع پر سرینگر میں فورم کے ریاستی چیرمین فاروق احمد تانترے کی قیادت میں احتجاج ہوا جبکہ جموں میں فورم کے نائب چیرمین بھوپیندر سنگھ ، جنرل سیکٹری جہانگیر عالم خان اور صوبائی صدر آفتاب ملک کی قیادت میں اساتذہ نے احتجاج کیا۔
اس موقع پرنامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لیڈران نے کہا کہ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود سرکار رہبر تعلیم اساتذہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں – انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے فورم محکمہ اور سرکار سے گذارش کرتی آ رہی ہے کہ اساتذہ کی تنخواو¿ں کو سٹریم لائن کر نے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں لیکن سرکار کی یقین دہانیاں سراب ثابت ہوئی اور اساتذہ کو سڑکوں پر اتر آنے کے لئے مجبور کیا گیا –
انہوں نے کہا کہ فورم نے وزیر تعلیم سے لیکر وزیر خزانہ تک اس بارے میں بار بار استدا کی گئی لیکن خالی یقین دہانیوں کے سوا رہبر تعلیم اساتذہ کو کچھ حاصل نہ ہوا – انہوں نے مزید کہا کہ سرکار رہبر تعلیم اساتذہ کے آڈر میں خود اس بات کا اظہار کرتی آئی ہے کہ پانچ سال کی تسلی بخش خدمات کے بعد رہبر تعلیم اساتذہ جنرل لائن ٹیچرز کے ذمرے میں شامل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں تنخوائیں حاصل کر نے کے لئے مہینوں تک کا انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ قابل افسوس ہے – فورم چیرمین نے کہا کہ انہیں کوئی شوق نہیں کہ وہ سڑکوں پر اتر آئیں وہ چاہئتے ہیں کہ وہ سکولوں میں غریب طلباءکو تعلیم کے نور سے آراستہ کرتے رہیں لیکن سرکار اور متعلقہ محکمہ انہیں مجبور کر رہا ہے –
انہوں نے سرکار کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبر تعلیم اساتذہ کے جائز مسائل کو ایک ہی بار حل کیا جائے تاکہ فورم کو جو نعرہ ہے کہ وہ ریاست میں نظام تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں وہ مقصد پورا ہو سکے – تانترے نے کہ اساتذہ کی ٹائم باونڈ پروموشن نا معلوم وجوہات کی بنا پر روک دی گئی ہے ،آئنربل ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرانسفر پالیسی کو پانچ سال کی سروس کے بعد لاگو نہیں کیا جا رہا ہے جو کہ اس طبقے کے ساتھ نا انصافی ہے -تانترے نے مزید کہا کہ ایجوکیشن وایلنٹرز سے بنے رہبر تعلیم اساتذہ و دیگر کئی رہبر تعلیم اساتذہ کی مستقلی کی فائلیں دفتروں میں دھول چاٹ رہی ہیں جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے –
اس سلسلے میں جموں میں بھی فورم کی طرف سے دی گئی کال پر اساتذہ کی ایک بڑی تعداد پریس کلب جموں میں جمع ہوئی اس موقع پر اس احتجاج کی قیادت فورم کے نائب چیرمین بھوپیندر سنگھ ، ریاستی جنرل سیکٹری جہانگیر عالم خان اور صوبائی صدر آفتاب عالم ملک کو رہے تھے – اس موقع پر مقررین نے سرکار کی طرف سے رہبر تعلیم اساتذہ کے ساتھ جاری رکھے گئے سلوک کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے پر زور الفاظ میں مذمت کی -مقررین نے کہا کہ سرکار جان بوجھ کر اساتذہ کو سڑکوں پہ آنے کے لئے مجبور کر رہی ہے -انہوں نے کہا کہ رہبر تعلیم اساتذہ اپنے مسائل کا حل ایک ہی بار چاہئتے ہیں تاکہ انہیں بار بار ذہینی قوفت کا سامنا نہ کرنا پڑے -انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو مستقلی کے لئے زونل ایجوکیشن آفیسر کے دفتروں سے لیکر ڈرایکٹریٹ تک در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں –
احتجاجی اساتذہ کا کہنا تھا کہ کئی زونوں میں بنا ڈی ڈی او کے د فتر چل رہے ہیں اور مختلف رقومات نکالنے کے لئے اساتذہ پریشان ہیں جس میں میڈ ڈے میلز و دیگر رقومات شامل ہیں -اساتذہ نے اس موقع پر جم کر نعرہ بازہ کر تے ہوئے جموں میں سیول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کر نے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا – سرینگر میں بھی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے –
Comments are closed.