بھارت، پاکستان تنازع کے بجائے مذاکراتی عمل شروع کریں: امریکا
واشنگٹن: امریکا نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جنوبی ایشیاءمیں تناو¿ بڑھ رہا ہے اس لیے نئی دہلی اور اسلام آباد اپنے متنازع اور حل طلب معاملات کے لیے مذاکرات کی میز پر مل بیٹھیں۔
امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پار شیلنگ میں گزشتہ چند ہفتوں سے شدت آگئی ہے جس کے سدباب کے لیے ’ہمارا خیال ہے کہ دونوں ممالک کو بیٹھ کر ضرور بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے‘۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ پاکستانی اور بھارتی وزیر خارجہ کابل میں رواں ہفتے عالمی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کریں گے۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک کے سیکیورٹی ایڈوائزر کی آخری ملاقات بنکاک میں دسمبر 2017 میں ہوئی تھی تاہم افغانستان میں جاری بین الااقوامی کانفرنس میں اگر دونوں ممالک کے سینئر افسران براہِ راست ملاقات کرتے ہیں تو یہ رواں برس کی پہلی ملاقات ہوگی۔
کابل کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں ہیتھر نوریٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کی ملاقات میں امریکا بھی حصہ لے گا، ’مذاکراتی عمل میں شراکت داری اور افغانستان میں بہتر حالات کے لیے امریکا بہت پر جوش ہے‘۔
امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ کانفرنس افغانستان کے حوالے سے ہے تاہم کانفرنس میں شریک ممالک خطے کے سرحدی امور پر تبادلہ خیال بھی کر سکتے ہیں جیسا کہ پاکستان اور بھارت کو کرنا چاہیے‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے پ±رامید ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’کابل میں جاری کانفرنس کے چوتھے مذاکراتی دور میں امریکا، بھارت اور افغانستان کے مابین مشاورتی عمل ہوا‘۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ’ امریکا اور بھارت نے افغانستان کی انتظامی امداد پر بات کی جس میں تینوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور خطے کی سلامتی کے امور زیر بحث آئے‘۔
Comments are closed.