وزیر اعلیٰ کو وکالت کا حق نہیں تو پھر اور کس کو ہے :رفیع احمد میر

سرینگر25فروری اے پی آ ئیبھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے بیان کو ان کا ذاتی خیال قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ 6دہائیوں سے مرکزی حکومتوں نے ریاست جموں و کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا ،پاکستان کی غلطیوں کی سزا ریاستی عوام کو نہیں دیا جا سکتا ،بات چیت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعلیٰ کو ہے اس کے سوا ریاست میں ایسا کون ہے جو یہ فیصلہ لے سکتا ہے ؟وزیر اعلیٰ ریاست کے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ اے پی آئی کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو کی جانب سے دئیے گئے انٹر ویو کو ان کاذاتی خیال قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی کے ترجمان رفیع احمد میر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو بات چیت کا حق حاصل نہیں ہے تو پھر کس کو ہے ؟،ایسا کونسا دوسرا شخص ہے جو پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی وکالت یا مخالفت کریں ،وزیر اعلیٰ نے ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی حالت کو دیکھ کر ہمیشہ بات چیت اپنانے پر زور دیا ہے ۔ ریاست میں نا مساعد حالات کی وجہ سے قبرستان آباد ہوئے ہیں ، بے گناہ مارے جا تے ہیں ،لوگوں کو مصائب و مشکلات کا سامنا ہے ،بھارت پاکستان کے مابین اختلافات کی سزا ریاست جموں و کشمیر کے معصوم لوگوں کو نہیں دی جا سکتی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ ریاست کی وزیر اعلیٰ نے لوگوں کی حالت کو دیکھ کر ہمیشہ بات چیت کی ترجمانی کی ہے اور ان کے ہی اصرار پر مرکزی حکومت نے مذاکراتکار کی تعیناتی عمل میں لائی ہے ۔ رفیع احمد میر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری کا بیان ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یہ ریاست کے لوگوں کی ترجمانی نہیں ہے ۔ نئی دہلی کو ریاست کے لوگوں کے مشکلات اور مصائب کی علمیت نہیں ہے ،پی ڈی پی اپنے ایجنڈے پر چٹان کی طرح قائم ہے کہ لوگوں کو عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ نئی دہلی 6دہائیوں سے ریاست کے لوگوں کے مصائب و مشکلات کا ازالہ کرنے میںکامیاب نہیں ہو سکی ۔کشمیر کا مسئلہ 6دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور اس مسئلے کو بات چیت کے بغیر حل کرنا نا ممکن ہے ،دونوں ممالک نے طاقت آزمائی بھی کی ہے لیکن حاصل کچھ بھی نہیں ہوا ۔ سرحدوںکی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے پی ڈی پی کے ترجمان نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور آر یا پار ریاست جمو ں و کشمیر کے لوگ مر رہے ہیں ۔ بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے طرز عمل کو اپنا کر خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کی جائیگی اور خود وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے 15اگست کو لال قلعے کے فصیل سے اعلان کیا تھا کہ گولی سے نہ گالی سے بات بنے گی گلے لگانے سے ،ہم مرکزی حکومت کو ان کا ہی وعدہ یا د دلاتے ہیں ۔

Comments are closed.