چرارشریف میں جنگجوﺅں کی فائرنگ،پولیس اہلکارازجان

چرارشریف۵۲،فروری چرارشریف میں جنگجوﺅں کی فائرنگ کے نتیجے میں تاریخی زیارت شریف کی حفاظت پرمامورپولیس اہلکارازجان ہوگیاجبکہ حملہ آوراس اہلکارکی سروس رائفل ’ایس ایل آر‘لیکرفرارہونے میں کامیاب ہوگئے ۔فائرنگ کاواقعہ پیش آنے کے نتیجے میں قصبہ میں خوف وہراس کی لہردوڑگئی جبکہ فوج ،فورسزاورٹاسک فورس اہلکاروںنے محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔ایس ایس پی بڈگام نے جنگجوئیانہ حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ زخمی پولیس کانسٹیبل بادامی باغ فوجی اسپتال میں دم توڑبیٹھا۔ اُدھرریاستی پولیس کے سربراہ ایس پی ویدنے چرارشریف میں جنگجوئیانہ حملے کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت پرسخت صدمہ ظاہرکرتے ہوئے اس کارروائی کوبزدلانہ قراردیا۔کے این ایس کے مطابق وسطی قصبہ چرارشریف میں اتوارکوبعددوپہراُسوقت خوف وہراس کی لہردوڑگئی جب نامعلوم اسلحہ برداروں نے آستان عالیہ حضرت نورالدین ولی ؒ کی حفاظت پرمامور ایک پولیس اہلکارپرفائرنگ کرکے اُسے شدیدزخمی کردیاجبکہ حملہ آوراس اہلکارکی سروس رائفل چھین کرفرارہوگئے۔پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ جنگجوﺅں نے چرارشریف میں واقع تاریخی اہمیت کی حامل زیارت گاہ کی سیکورٹی چوکی پرفائرنگ کردی اوریہاں ڈیوٹی انجام دے رہاجموں وکشمیرپولیس کی آرمڈونگ کی13ویں بٹالین کے ایک اہلکارسیلکشن گریڈکلتارسنگھ گولیاں لگنے سے شدیدزخمی ہوگیا۔ذرائع کے مطابق حملہ آورزخمی پولیس اہلکارکی سروس رائفل ’ایس ایل آر‘لیکرفرارہوگئے ۔ایس ایس پی بڈگام تیجندرسنگھ نے بتایاکہ زخمی اہلکارکوفوری طورسرینگرکے بادامی باغ علاقہ میں قائم فوجی اسپتال منتقل کیاگیالیکن وہ یہاں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑبیٹھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ حملے کے فوراًبعدپورے علاقے کومحاصرے میں لیکرحملہ آوروں کی تلاش شروع کی گئی ۔اُدھرمقامی لوگوں نے بتایاکہ تاریخی اہمیت کی حامل زیارت گاہ کی سیکورٹی چوکی پرفائرنگ ہونے اورایک اہلکارکے شدیدزخمی ہوجانے کے بعدفوج ،فورسزاورٹاسک فورس کے اہلکاروں نے چرارشریف قصبہ کومحاصرے میں لیکرکریک ڈاﺅن شروع کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لائی جوکافی وقت تک جاری رہی تاہم اس دوران حملہ آورزخمی پولیس اہلکارکی سروس رائفل چھین کرفرارہونے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ اُدھرریاستی پولیس کے سربراہ ایس پی ویدنے چرارشریف میں جنگجوئیانہ حملے کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت پرسخت صدمہ ظاہرکرتے ہوئے اس کارروائی کوبزدلانہ قراردیا۔سماجی رابطے کی ویطب سائٹ ٹویٹرپرلکھے اپنے ٹویٹ میں ڈی جی پی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اُنھیں ریاستی پولیس کے ایک جوان کی ہلاکت پرسخت صدمہ پہنچا۔

Comments are closed.