پاکستان کرنی یا نہیں فیصلہ مرکزی حکومت کرے گی:رام مادھو

سری نگر۵۲،فروری ”کشمیرپالیسی پرپی ڈی پی اوربی جے پی میں چپقلش“ کے بیچ بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھونے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ پاکستان کیساتھ بحالی مذاکرات کافیصلہ مرکزی سرکارکااستحقاق ہے ۔انہوں نے کہاکہ محبوبہ مفتی کی بھلے کچھ بھی رائے یاموقف ہو،پاکستان سے متعلق فیصلہ نئی دہلی ہی لے گی ۔انہوں دبے الفاظ میں جموں وکشمیرکی خاتون وزیراعلیٰ کوخارجی امورات میں دخل اندازی نہ دینے کامشورہ دیتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگربھارت سرکارپاکستان کیساتھ مذاکرات کاعمل پھرشروع کرتی ہے تواسکی کیاگارنٹی یاضمانت ہے کہ ہمسایہ ملک اپنی غلط کاریوں سے بازآجائیگا۔ادھرپی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ رفیع احمدمیرنے رام مادھوکے بیان پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ریاستی عوام کے خواہشات ومشکلات کی ترجمان ہیں ،اوراُنکی رائے ہراعتبارسے مقدم ہے ۔اُنہوں نے واضح کیاکہ پاکستان کی کسی غلطی کی سزاریاستی عوام کونہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ موجودہ نامساعدصورتحال کاخمیازہ جموں وکشمیرکے عوام کوہی بھگتناپڑرہاہے ۔واضح رہے کہ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گزشتہ تقریبا 2ماہ کے دوران کئی مرتبہ پاکستان سے مذاکرات شروع کرنے کی وکالت کی۔انہوںنے کہاتھاکہ جموں وکشمیر کے لوگ مصیبت میں ہیں،ہمیں بات چیت کرنا ہوگی، اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق کشمیراورپاکستان سے متعلق پالیسی پرریاست میں برسراقتدارجماعت پی ڈی پی اوربی جے پی کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں ،اورآئے دنوں اتحادی جماعتوں کے لیڈران کی جانب سے متضادبیانات سامنے آتے ہیں ۔اوراب دونوں جماعتوں کے مابین گٹھ جوڑاورپھرملی جلی سرکارتشکیل دینے میں کلیدی رول نبھاچکے بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھوکاایک بیان سامنے آیاہے،جس میں انہوں نے واضح کیاہے کہ پاکستان کیساتھ بحالی مذاکرات کافیصلہ کرنامرکزی سرکارکااستحقاق ہے۔ایک موقرانگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘کودئیے اپنے تازہ انٹرویومیں رام مادھونے کہاہے کہ جموں وکشمیرکی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سرحدی صورتحال اورہندوپاک کے مابین مذاکرات نہ ہونے کے بارے میں اپنے خیالات اوراپنی رائے ہوسکتی ہے لیکن بقول رام مادھواسکایہ مطلب نہیں کہ بحالی مذاکرات میں موصوفہ کاکوئی رول ہے ۔انہوں نے واضح کیاکہ یہ فیصلہ مرکزی سرکارہی لے سکتی ہے کہ آیاپاکستان کیساتھ تعطل کے شکارمذاکرات کوبحال کرناہے کہ نہیں ۔رام مادھوکاکہناتھاکہ اگرمحبوبہ مفتی سمجھتی ہیں کہ پاکستان کیساتھ مذاکرات کاعمل بحال کرنے سے دراندازی رُک جائیگی اورکشمیروادی میں امن بحال ہوگاتوموصوفہ کواپنانقطہ نظرسامنے رکھنے دیجئے لیکن حتمی فیصلہ تومحبوبہ مفتی کونہیں بلکہ مرکزی سرکارکوہی لیناہے ۔بھاجپاکے قومی جنر ل سیکرٹری نے دبے الفاظ میں جموں وکشمیرکی خاتون وزیراعلیٰ کوخارجی امورات میں دخل اندازی نہ دینے کامشورہ دیتے ہوئے پھریہ واضح کیاکہ پاکستان کیساتھ بحالی مذاکرات کافیصلہ محبوبہ مفتی کونہیں لیناہے کیونکہ یہ مرکزی سرکارکااستحقاق ہے۔رام مادھونے واضح کیاکہ خارجی امورات کے بارے میں محبوبہ مفتی کاکوئی استحقاق نہیں ۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگربھارت سرکارپاکستان کیساتھ مذاکرات کاعمل پھرشروع کرتی ہے تواسکی کیاگارنٹی یاضمانت ہے کہ ہمسایہ ملک اپنی غلط کاریوں سے بازآجائیگا۔رام مادھونے کہاکہ کیامذاکرات کاعمل شروع ہونے کے بعدپاکستان اپنی سرزمین سے جنگجوﺅں کی جموں وکشمیرمیں دراندازی کوختم کرے گااورکیاکشمیروادی میں امن بحال ہوجائیگا۔غورطلب ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے کچھ سال قبل شیرکشمیرکرکٹ اسٹیڈیم سری نگرمیں ایک جلسہ عام کے دوران سابق وزیراعلیٰ مفتی محمدسعیدمرحوم سمیت سبھی علاقائی سیاسی جماعتوں اورلیڈروں کوورطہ حیرت میں ڈالدیاتھاجب مفتی سعیدمرحوم کی جانب سے اپنی تقریرکے دوران پاکستان کیساتھ مذاکرات بحال کرکے تعلقات کوبہتربنانے کی بات کہی گئی تھی ،اوراسکے کچھ منٹ بعدوزیراعظم مودی نے اسی جلسہ میں کہاتھاکہ پاکستان کیساتھ مذاکرات یاتعلقات کی بہتری کے بارے میں ہمیں کسی کے مشورے کی کوئی ضرورت نہیں ۔دریں اثناءبھاجپاجنرل سیکرٹری رام مادھوکے بیان پرمخلوط سرکارمیں شامل علاقائی جماعت پی ڈی پی نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے واضح کیاکہ خاتون وزیراعلیٰ کویہ اختیاراورحق حاصل ہے کہ وہ جموں وکشمیرکے عوام کودرپیش مشکلات اوراُنکی خواہشات کی ترجمانی کریں ۔پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ رفیع احمدمیرنے اتوارکوکہاکہ ریاستی عوام کودہائیوں سے سرحدی کشیدگی اوربدامنی کاسامناکرناپڑرہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں خواتین بیوہ اورہزاروں بچے یتیم ہوگئے ہیں ،اوراگروزیراعلیٰ محبوبہ مفتی متاثرین اورریاستی عوام کی بات کرتی ہیں تویہ انکاحق اورفرض بھی بنتاہے۔رفیع احمدمیرنے مزیدکہاکہ اسی تکلیف دہ صورتحال کے تناظرمیں اگروزیراعلیٰ مرکزی سرکارکے سامنے صورتحال کورکھتی ہیں تویہ موصوفہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ اُنھیں ریاستی عوام کودرپیش مشکلات اوراُنکی خواہشات کی ترجمانی ونمائندگی کرنی ہے۔انہوںنے کہاکہ دہائیوں سے جاری شورش جیسی صورتحال اورلائن آف کنٹرول پرہندوپاک افواج کے مابین آئے دنوں ہونے والے ٹکراﺅکی وجہ سے ریاست کے لوگ ذہنی تناﺅکے شکارہوئے ہیں ۔پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ نے واضح کیاکہ وزیراعلیٰ جموں وکشمیرکی زمینی صورتحال بیان کرتی ہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ موجودہ نامساعدصورتحال کاخمیازہ جموں وکشمیرکے عوام کوہی بھگتناپڑرہاہے ۔رفیع احمدمیرنے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ جموں وکشمیرسے متعلق مرکزی سرکارکی طاقت پرمبنی پالیسی کاکوئی نتیجہ برآمدنہیں ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی کاوشوں کاہی نتیجہ ہے کہ مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرمیں مذاکرات کاعمل شروع کرانے کیلئے مذاکرات کارکی نامزدگی عمل میں لائی ۔پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ رفیع احمدمیرنے کہاکہ دلی میں بیٹھے لوگوں کوجموں وکشمیرکی زمینی صورتحال کاصحیح اندازہ اورعلمیت نہیں ہوتی ہے ،اوراسی وجہ سے صحیح وقت پرصحیح فیصلے نہیں لئے جاتے ہیں ۔انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ جب تک کشمیرمیں کوئی موثرسیاسی عمل شروع نہیں ہوگاتب تک یہاں معصوم مرتے رہیں گے ۔ رفیع احمدمیرنے واضح کیاکہ پاکستان کی کسی غلطی کی سزاریاستی عوام کونہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ موجودہ نامساعدصورتحال کاخمیازہ جموں وکشمیرکے عوام کوہی بھگتناپڑرہاہے ۔واضح رہے کہ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گزشتہ تقریبا 2ماہ کے دوران کئی مرتبہ پاکستان سے مذاکرات شروع کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے 12 فروری کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ تشدد کے خاتمے کے لئے پاکستان سے بات چیت لازمی ہے۔انہوںنے کہاتھاکہ جموں وکشمیر کے لوگ مصیبت میں ہیں،ہمیں بات چیت کرنا ہوگی، اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اس سے قبل وزیر اعلی نے ریاستی اسمبلی میں کہا تھا کہ جموں وکشمیر کے عوام یہاں جاری تشد د اور غیر یقینیت سے سب سے زیادہ متاثرہوئے ہیں۔

Comments are closed.