یہ پوری وادی کیلئے اعزاز کی بات ہے کہ وزیر اعظم عالمی یوم یوگا دن پر سرینگر میں 7ہزار افراد کی قیادت کریں گے / منوج سنہا
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ یہ پوری وادی کشمیر کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وزیر اعظم کا یہاں عالمی یوم یوگا پر ہونا ہے۔انہوں نے کہا ”یہ پوری وادی کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا یہاں بین الاقوامی یوگا ڈے پر ہونا ہے۔ وہ ڈل جھیل کے کنارے 7,000 سے زیادہ لوگوں کے ساتھ یوگا کریں گے جو 21 جون کو ہونے والے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ “
لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم کا جموں و کشمیر سے خصوصی تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سری نگر میں 10 واں بین الاقوامی یوگا دن منانے کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا ”گزشتہ 10 سالوں میں، یوگا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک پہچان ملی ہے۔ ایونٹ میں اب تک 23.5 کروڑ سے زیادہ لوگ شرکت کر چکے ہیں۔
جموں اور کشمیر میں، پچھلے سال 23 لاکھ لوگوں نے یوگا ڈے میں حصہ لیا تھا اور میں روزانہ کی بنیاد پر یوگا کرنے والے لوگوں میں اضافہ دیکھ رہا ہوں۔ تناو¿ سے پاک زندگی کے لیے لوگ یوگا کا انتخاب کر رہے ہیں۔ “ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ پی ایم مودی کے تعلقات کے بارے میںسنہا نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ اتنے ہی منسلک ہیں جیسا کہ اس سال مارچ میں بخشی اسٹیڈیم میں ان کی عوامی میٹنگ میں دیکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا ”میں نہیں مانتا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں اور وزیر اعظم مودی کے درمیان کوئی فاصلہ ہے۔ تین ماہ قبل جب انہوں نے بخشی اسٹیڈیم میں تقریر کی تو لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا اس تاریخی لمحے کا گواہ بن گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام پی ایم مودی کے ساتھ اتنے ہی وابستہ ہیں۔”اگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عوام اور وزیر اعظم کے درمیان فاصلہ ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔
ہمارے وزیر اعظم مختلف ذرائع سے یہاں کے مقامی لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں“۔آئندہ امرناتھ یاترا پر، سنہا نے کہا کہ جب تمام برادریوں کے مذہبی تہواروں اور تقریبات کی بات آتی ہے تو انتظامیہ ہمیشہ اپنی انگلیوں پر ہے۔انہوں نے کہا ” ہم نے امرناتھ یاترا کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ محرم بھی قریب آ رہا ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے۔ “ سنہا نے کہا کہ گزشتہ سال G20سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد کے بعد جموں و کشمیر میں سیاحوں کی آمد پر سیدھا اثر پڑا۔انہوں نے کہا ”لہذا میں اس ایونٹ کو زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہوں
Comments are closed.