جموں ، سرینگر ، بڈگام اور اننت ناگ سمیت 15مقامات پر این آئی اے کے چھاپے اور تلاشیاں

سرینگر /10فروری /

ملی ٹنسی فنڈنگ اور نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی جانب دھکیلنے کے کیس کے سلسلے میںقومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے وادی اور جموں میں 15مقامات پر چھاپے ڈالیں جس دوران تلاشیاں بھی لی گئی اور کچھ افراد سے پوچھ بھی کی گئی ۔تلاشیوںکے دوران مجرمانہ دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات کے علاوہ 20 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی بھی برآمد ہوئی۔

سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں ملی ٹنسی فنڈنگ اور نوجوانوں کو بنیادی پرستی کی جانب دھکیل دینے کے معاملے میں درج ایک کیس کے سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے جموں اور سرینگر سمیت 10مقامات پر چھاپے ڈالیں جس دوران تلاشیاں لی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے جموں کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف دستوں کے ساتھ مل کر جموں کے گوجر نگر اور شہدی چوک علاقے میں ایک اسکول میں چھاپہ مار کارروائی انجام دی جبکہ اس کے بعد اسکول کے خزانچی اور اس کے سربراہ کی رہائشگاہ بھی چھان ماری گئی ہے اور وہاں بھی تلاشیاں لی گئی ۔

اسی طرح سے ایک اور ٹیم نے جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں کالعدم تنظیم جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے دو سابق قائدین کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔کولگام میں جہاں چھاپے ڈالیں گئے ان میں جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن اور ایک اور رہنما سیار احمد ریشی کے گھروں پر مارے گئے جس دوران وہاں تلاشیاں لی گئی اور مکینوں سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ۔

Comments are closed.