پاکستان کی حقوق انسانی کی معروف کارکن اسما جہانگیرانتقال کرگئیں

لاہور،فروری:معروف وکیل اور حقوق انسانی کی کارکن اور جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں قیدہندستانی شہری کلبھوشن جادھوکی پیروکار اسماجہانگیرآج حرکت قلب بندہوجانے سے انتقال کرگئیں ۔
محترمہ جہانگیر 66سال کی تھیں ۔انھیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال میں داخل کرایاگیا ،جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیدیا۔
واضح رہے کہ کلبھوشن جادھومعاملہ میں محترمہ جہانگیر نے پاکستان حکومت کے خلاف آوازاٹھائی تھی۔انکی پیدائش جنوری 1952میں لاہور میں ہوئی تھی ۔انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی ۔انھوں نے لاہور ہائی کورٹ اور پاکستان سپریم کورٹ میں وکالت کی ۔وہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر بنی تھیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے محترمہ جہانگیر ایران میں خصوصی نامہ نگار کے طورپر بھی کام کرچکی ہیں ۔
محترمہ اسما جہانگیرنے پاکستان میں جمہوریت کی بقاکے لئے ہمیشہ اپنی آوازبلند کی ۔کئی بار حکومت مخالف موقف کی وجہ سے انھیں جیل جانا پڑاتھااور وہ نظربندبھی ہوئی تھیں ۔انھیں کئی اعزازات سے بھی نوازاگیا۔انھیں ہلال امتیاز ،ستارہ امتیاز سے نوازاگیا۔حقوق انسانی پر کام کرنے کی وجہ سے یونیسکو نے بھی انھیں اعزازسے نوازاتھا۔انھیں 2014میں فرانس کا اعلی شہری ایوارڈ بھی دیاگیاتھا۔

Comments are closed.