22 جنوری 2024 صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ، آج کی تاریخ ہزاروں سال بعد بھی یاد رہے گی/وزیر اعظم

سرینگر /22جنوری /

22 جنوری 2024 صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج کی تاریخ ہزاروں سال بعد بھی یاد رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک غلامی کے شکنجے سے آزاد ہوا۔ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی لوگ اس تاریخ کو یاد رکھیں گے۔ یہ رام کی عظیم نعمت ہے کہ ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں،۔

انہوں نے کہا ”ہندوستان کے تمام شہریوں کی روح میں ہے اور یہ کہ پورا ملک آج دیوالی منا رہا ہے“۔

سی این آئی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ 22 جنوری، وہ تاریخ جب ایودھیا کے رام مندر میں ’پران پرتیشتھا‘تقریب کے بعد رام للا کی مورتی کی نقاب کشائی کی گئی تھی، ایک نئے ’کال چکر‘کی شروعات کی علامت ہے اور لوگ آج کی تاریخ ہزاروں سال بعد بھی یاد رہے گی۔اس موقعہ پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انہوں نے مندر کے گربھ گرہ میں پران پرتشتن تقریب کی قیادت کی، وزیر اعظم نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر نے لوگوں کو ایک نئی توانائی سے بھر دیا ہے۔

انہوں نے کہا ”بھگوان رام صدیوں کے انتظار کے بعد بالآخر (اپنے ٹھکانے میں) پہنچے ہیں۔ ہم نے صدیوں کے صبر اور قربانیوں کے بعد آخرکار ہمارے بھگوان رام کی آمد ہوئی ہے۔“وزیر اعظم مودی نے کہا ”22 جنوری 2024 صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ رام مندر کی تعمیر نے لوگوں کو ایک نئی توانائی سے بھر دیا ہے۔“

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک غلامی کے شکنجے سے آزاد ہوا‘ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی لوگ اس تاریخ کو یاد رکھیں گے۔ یہ رام کی عظیم نعمت ہے کہ ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں،۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کی روح میں ہے اور یہ کہ پورا ملک آج دیوالی منا رہا ہے۔انہوں نے کہا ”آج، میں بھگوان رام سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ ہماری محبت اور تپسیا میں کچھ کمی تھی جس کی وجہ سے یہ کام (رام مندر کی تعمیر) اتنے سالوں تک نہیں ہوا تھا۔ تاہم، آج وہ خلا پ±ر ہو گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ بھگوان رام ہمیں معاف کر دیں گے۔ “وزیر اعظم سپریم کورٹ آف انڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے 9 نومبر 2019 کو فیصلہ سنا کر مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے مزید کہا”رام کے وجود پر سوالیہ نشان لگایا گیا تھا۔ میں انصاف کرنے کیلئے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا اور مندر قانون کے مطابق بنایا گیا تھا۔ “

Comments are closed.