صدر اسپتال سرینگر شوٹ آﺅٹ ،10 گرفتار، جیل سپر انٹنڈنٹ معطل

سرینگر/۸ فروری/پولیس نے جنوبی ضلع پلوامہ میں شبانہ چھاپوں کے دوران لشکر کمانڈر ابو حنظلہ کے ڈرامائی فرار میں مبینہ طور معاونت کرنے والے دو سگے بھائیوں سمیت10افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ خود ابو حنظلہ ایک رہائشی مکان پر چھاپے کے دس منٹ پہلے وہاں سے نکل چکا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں ملوث افراد کی شناخت صدر اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور خفیہ اطلاعات کی مدد سے کی گئی اور ان میں سے کئی لوگ واردات کے وقت صدر اسپتال کے احاطے میں موجود تھے۔پولیس نے جنگجوﺅں کے ہاتھوں فرار ہونے کےلئے استعمال کی گئی موٹر سائیکل بھی پلوامہ سے ہی ضبط کرلی ہے جبکہ اس واقعہ میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کی تلاش میں جنوبی کشمیر کے متعدد مقامات پرچھاپے ڈالے جارہے ہیں۔

ذرائع سے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو معلوم ہوا ہے کہ منگل کو صدر اسپتال میں پیش آئے واقعہ کی گہرائی کے ساتھ تحقیقات کرنے کےلئے ایک ایس پی کی قیادت میں پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT)تشکیل دی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں جب صدر اسپتال کے باہر مختلف مقامات پر نصب خفیہ کیمروں کی عکس بندی(سی سی ٹی وی فوٹیج) کا جائزہ لیا گیا تو واردات کے وقت فوٹیج میں کچھ مشکوک افراد کی نقل و حرکت نظر آئی۔مزید چھان بین کے دوران پولیس کی تفتیشی ٹیم فوٹیج میں نظر آنے والے مشتبہ افراد کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

ادھر پلوامہ سے کے ا یم ا ین نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی ات کے دوران پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ سرینگر سے وابستہ اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے نیم فوجی دستوں کے تعاون سے پلوامہ ضلع کے متعدد مقامات پر چھاپے ڈالے ۔ان میں کسری گام، بیگم باغ، لیلہار، پہو اور سنگو نارہ بل قابل ذکر ہیں۔نمائندے کے مطابق ان چھاپوں کے دوران عمل میں لائی گئی گرفتاریوں کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق 10افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ کچھ اطلاعات میں یہ تعداد چھ بتائی گئی ہے۔

گرفتار شدگان میں سے کچھ ایک کی شناخت شکیل احمد بٹ ساکن لیلہار، ٹکا خان ساکن سنگو نارہ بل، جان محمد گنائی کسری گام، جاوید احمد راتھر ساکن بیگم باغ، اس کے بھائی منظور احمد راتھر، شکیل احمد وانی سنگو نارہ بل اور سید تجمل ساکن پہو پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ایس ایس پی پلوامہ محمد اسلم چودھری نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں سرینگر پولیس نے عمل میں لائی ہیں، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفاصیل فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی۔

تاہم پولیس ذرائع نے کے ایم این کو بتایا کہ مشتبہ افراد کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پر ان کے مابین ہوئی بات چیت کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی جبکہ دیگر کئی زاویوں سے بھی اس کی تصدیق کی گئی۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ گرفتار شدگان میں سے4افراد منگل کو اُس وقت صدر اسپتال میں موجود تھے جب ابو حنظلہ کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا، ان میں سے دو نے پولیس پر گولی چلائی جبکہ دیگر دو ان کو کَور دے رہے تھے۔ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ واردات لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین نے مشترکہ طور انجام دی۔

ذرائع کے مطابق حنظلہ کی حزب جنگجو صدام پڈر کے ساتھ تازہ تصویر اس بات کو ثابت کرتی ہے ۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک آڈیو کلپ میں سینئر حزب کمانڈر ریاض نائیکو کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ابو حنظلہ بحفاظت ان کے پاس پہنچ گیا ہے۔پولیس کے ایک آفیسر نے کے ایم این کو بتایا کہ نوید چونکہ گرفتار ہونے سے قبل قریب دو سال تک جنوبی کشمیر میں سرگرم رہا اور اس کا وہاں اوور گراﺅنڈ ورکروں کا نیٹ ورک بھی ہوگیا، لہٰذا یہ خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ فرار ہونے کے بعد جنوبی کشمیر کی طرف ہی جائے گا اور یہ خدشہ درست ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوید کچھ عرصے تک چھپنے کی کوشش کرے گا اور بعد میں دوبارہ اپنی سرگرمیاں بحال کرے گا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور خفیہ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پراس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ابو حنظلہ صدر اسپتال سے فرار ہونے کے بعد پہلے موٹر سائیکل اور بعد میں ایک گاڑی میں سوار ہوکر پلوامہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جہاں وہ ایک رہائشی مکان میں بھی ٹھہرا۔ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس نے مکان پر چھاپہ مارا تاہم ابو حنظلہ صرف دس منٹ قبل وہاں سے نکل گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے وہ موٹر سائیکل بھی ضبط کرلی ہے جس پر سوار ہوکرنوید عرف ابو حنظلہ اپنے ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا۔یہ موٹر سائیکل اس وقت پلوامہ کے پولیس اسٹیشن کاکہ پورہ کی تحویل میں ہے۔تاہم ذرائع نے بتایا کہ نوید ابھی تک روپوش ہے اور اُسے وسیع پیمانے پر تلاش کیا جارہا ہے جس کےلئے پلوامہ ضلع کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر بھی چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم اس پورے منصوبے میں شامل مزید لوگوں کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ آخری اطلاع ملنے تک ایس او جی کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں چھاپے ڈال رہی تھیں۔

Comments are closed.