کشمیری طلباءکی مار پیٹ قابل مذمت:میرواعظ

سرینگر: حریت’ع‘ کے ترجمان نے مہندرا گڑھ ہریانہ میں ہندو انتہا پسند عناصر کی جانب سے وہاں سینٹرل یونیورسٹی میںزیر تعلیم کشمیری طلباءکی مار پیٹ اور ان کو شدید زخمی کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم طلباءاور تجارت پیشہ افراد کو اکثر و بیشتر ہندوانتہا پسند عناصر کی چیرہ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات رونماہوئے ہیں جب ان عناصر کی جانب سے پُر تشدد کارروائیوں کے سبب بہت سے زیر تعلیم طلباءکو تعلیمی ادارے چھوڑنے پڑے اور اس طر ح ان کا تعلیمی مستقبل مخدوش بن کررہ گیا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ حکومت ہندوستان اور ان ریاستوں کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان طلباءکے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ترجمان نے وسط کشمیر کے بڈگام ضلع کے سویہ بگ علاقے میں پولیس اور سرکاری فورسز کی جانب سے شبانہ چھاپوں کے دوران درجنوں افراد کی گرفتاری کو ریاستی دہشت گردی کا بدترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ سویہ بگ علاقے کے متعدد محلوں میں پولیس اور فورسز کے چھاپے کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار ، مکانوں کی توڑ پھوڑ اور مکینوںکو ہراساں کیا گیا ۔

ترجمان نے کہا کہ نہتے عوام کیخلاف سرکاری فورسز کی جارحانہ کارروائیاں یہاں کے عوام کے جذبہ مزاحمت کو توڑنے میںناکام ثابت ہو رہی ہیں اور سرکاری فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں محض انتقام گیری کے جذبہ سے عمل میں لائی جارہی ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ اس طرح کا غیر جمہوری عمل ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے اور اس طرح کے حربوں سے یہاں کے عوام اور قیادت کو اپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔
اس دوران گزشتہ ایک عشرے سے مسلسل اپنی رہائش گاہ میرواعظ منزل نگین میں نظر بند حریت چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سرینگر جموں سے بیک وقت شائع ہونے والے کثیر الاشاعت اخبار کشمیر ٹائمز کے چیف ایڈیٹر پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے پربودھ جموال اور انورادھا بھسین جموال کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔

ادھر میرواعظ کی ہدایت پر ایک موقر وفد جس میں میر غلام رسول، ٹی آر ڈوگرہ، کے کے سنگھ، فرحان چودھری، جاوید احمد خان، محمد افضل اور ایودھیا راج شامل ہیں نے ان کے گھر جاکر جناب میرواعظ کی جانب سے غمزدہ خاندان کے ساتھ اس سانحہ پر تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا اور غمزدہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

دریں اثنا ترجمان نے حریت چیرمین میرواعظ کی مسلسل نظر بندی ان کی جملہ دینی و سیاسی پر امن سرگرمیوں پر عائد پابندی اور سینئر حریت رہنما جناب مختار احمد وازہ کو گزشتہ تین دنوں سے مٹن تھانے میں مقید رکھے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کافی علیل ہےں اور پہلے ہی سے کئی عارضوں میں مبتلا ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ وازہ کو ان کے گھروالوں سے نہ تو ملنے کی اجازت دی جارہی ہے اور نہ ہی ضروری حیات بخش ادویات فراہم کی جارہی ہیں جو کہ نہ صرف حد درجہ غیر جمہوری اور غیر انسانی عمل ہے بلکہ موصو ف کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کے بھی مترادف ہے ۔

Comments are closed.