حکومتی قدغن جبرواستبداداورظالمانہ حربہ:گیلانی
سری نگر/۲، فروری : سیدعلی گیلانی نے” حکومتی قدغن کوجبرواستبداداورظالمانہ حربہ“قراردیتے ہوئے واضح کیاہے کہ ہم بھارتی ظلم کے آگے کبھی سرینڈر نہیں کریں گے۔انہوں نے نوجوانوں کی قربانیوں کوجدوجہدکااثاثہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ہماری تحریک حق وصداقت پر مبنی بہت ہی قیمتی اور انمول ہے۔کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابق چیرمین حریت (گ) سید علی گیلانی جمعہ کودن کے ساڑھے12بجے گھر میں نظربندی کے باوجود مجوزہ شوپیان چلو پروگرام میں شرکت کے لیے اپنی حیدرپورہ رہائش گاہ سے باہرنکلے اور شوپیان کی جانب مارچ شروع کیا، مگر وہاں پر موجود پویس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے سڑک پر کاٹنے دار تار بچھا کر ان کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس موقع پرسید علی گیلانی نے قوم کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ گزشتہ دنوں فوجی بربریت اور سفاکیت کے نتیجے میں 5 نہتے معصوم نوجوانوں کی ہلاکت پر ان کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہم نے آج شوپیان جانے کا پروگرام بنایا تھا اور میں اپنے گھر جسے قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے سے باہر آیاتو پولیس جنہوں نے ہرچہار طرف ناکہ بندی کی تھی نے ہمارا راستہ روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کی اس کارروائی کو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ تحریک حق وصداقت پر مبنی بہت ہی قیمتی اور انمول ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ ہم نے بحیثیت قوم اور خاص کر نوجوانانانِ ملت نے تہیہ کررکھا ہے کہ ہم بھارت کے ظلم کے آگے کبھی سرینڈر نہیں کریں گے۔ حریت(گ) چیرمین نے کہا کہ جموں کشمیر میں بھارت کا جبری اور فوجی قبضہ ہے اور یہاں کی اکثریت 47ءسے اس فوجی قبضے کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 6لاکھ انسانی زندگیاں قربان کی جاچُکی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ شوپیان چلو پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ہمارے معصوموں کو ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل کیا جارہا ہے اور دوسری طرف ہمیں اس قتلِ عام کے خلاف آواز اٹھانے اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا بالعموم اور خاص طور سے جموں کشمیر کے لوگ جان چکے ہیں کہ مجھے 2010سے گھر کی چار دیوار میں محبوس کردیا گیا ہے اور مجھے اپنی مظلوم عوام کے ساتھ ملنے کا کبھی موقع فراہم نہیں کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ مجھے اپنے عزیز واقارت کے خوشی یا غمی کے مواقع پر بھی ان کے پاس جانے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔سید علی گیلانی نے معصوم شہدائے شوپیان شاکر احمد میر، جاوید احمد بٹ، سہیل جاوید لون، رئیس احمد گنائی اور مشرف فیاض کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہتے تھے اور ان کا بڑی بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور ان کے قتل نے نہ صرف ان کے لواحقین اور رشتہ داروں بلکہ پوری قوم کے جگر اور سینے چھلنی کردئے ہیں۔ بھارت کی فوج اور پولیس ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کرکے ہمارے سینوں پر مونگ دَل رہا ہے اور وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کی ان ظالمانہ کارروائیوں سے ان معصوم شہداءکے لواحقین اور رشتہ داروں پر کیا گزررہی ہوگی۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی یہ انسانیت سوز کارروائیاں والدین اور رشتہ داروں کو ایسے درد اور کرب میں مبتلا کرتے ہیں جو مرتے دم تک ان کی زندگیوں کو آرام اور آسائش سے محروم کرتی ہیں۔ حریت(گ) چیرمین نے واضح کردیا کہ ہمیں ہندوستان کے ساتھ کوئی دشمنی اور عداوت نہیں ہے، ہم بھارت کے ایک ارب اور تیس کروڑ لوگوں کو بلا لحاظ مذہب وملّت انسانی رشتے کے بھائی سمجھتے ہیں ، مگر بھارت جموں کشمیر کے مظلوم عوام پر ظلم وجبر اور بربریت کی پالیسی اختیار کرکے ان انسانی اقدارکو پاو ¿ں تلے روند رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پروگرام پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنا جبر کی پالیسی ہے اور اس کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔سید علی گیلانی نے اقوامِ عالم سے بالعموم اور انسان دوست حضرات سے بالخصوص اپیل کہ وہ جموں کشمیر میں بھارتی ظلم وجبر کے خلاف اپنی آواز بلند کرکے انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام پر ہورہے مظالم کا سنجیدہ نوٹس لیں اور بھارت پر دباو ¿ ڈالیں کہ جموں کشمیر کے لوگوں سے حقِ خودارادیت کا موقع فراہم کریں جس کا ان کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر وعدہ کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان ، بھارت اور جموں کشمیر کے لوگ امن، چین اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکیں اور قتل وغارت گری کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس کا بھی ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے۔
Comments are closed.