جموں کشمیر میں کووڈ کے نئے 11مثبت معاملات درج
جموں/24اپریل
حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 11 مثبت معاملے سامنے آئے ہیا ہیںجن میں10 کاتعلق صوبہ جموں اور 01صوبہ کشمیر سے ہےں اور اس طرح اَب تک مثبت معاملات کی کل تعداد4,81,308تک پہنچ گئی ہے ۔
اِسی دوران آج61کووِڈ مریض شفایاب ہوئے ہیںجن میں 27کا تعلق صوبہ جموں سے اور 34 صوبہ کشمیر سے ہیں۔
کووِڈ ویکسی نیشن کے بارے میں بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکوں کی مجموعی تعداد 2,47,82,105تک پہنچ گئی ہے ۔اِس کے علاوہ جموں و کشمیر میںزائد اَز 18 برس عمر کی صد فیصد آبادی کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔
حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ اَب تک نوول کورونا وائرس کے4,81,308 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں358( صوبہ جموں میں198 اور صوبہ کشمیر میں160)معاملات سامنے آئے ہیں۔اَب تک 4,76,161اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔
جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد4,789تک پہنچ گئی ،جن میں سے 2,433کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور2,356کاتعلق جموں صوبہ سے ہےں۔
بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 2,71,35,030ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے 24اپریل2023ئکی شام تک2,66,53,722نمونوں کی رِپورٹ منفی اور 4,81,308 نمونوں کی رِپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔
علاوہ ازیں اَب تک68,89,713افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔358فراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ364اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطابق68,84,202اَفرادنے نگرانی مدت پوری کی ہے۔
بلیٹن کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران آج ضلع وار کووِڈمثبت معاملات کی رِپورٹ فراہم کرتے ہوئے ضلع کولگام میں 01 معاملہ درج ہوا ہے ۔بارہمولہ ، بڈگام ،پلوامہ ، شوپیان ،گاندربل ، اننت ناگ ، سری نگر،بانڈی پورہ اورکپواڑہ اَضلاع میں کسی بھی کووِڈ مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں ہے۔
اِسی طرح جموں میں 09 ۱ورضلع کٹھوعہ میں 01نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔رام بن ،اودھمپور ، راجوری ، ڈوڈہ ، پونچھ ، سانبہ ، کشتواڑ اور رِیاسی اضلاع میں کسی بھی کووِڈ مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں آئی ہے۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووِڈ ۔19ہیلپ لائین نمبرات پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں تاکہ اُنہیں ضرورت پڑنے پر صحیح طبی مشورہ دیا جاسکے۔
Comments are closed.