جموں کشمیر میں کووڈ کے104نئے مثبت معاملات درج
جموں/16اپریل
حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 104 مثبت معاملے سامنے آئے ہیا ہیںجن میں45 کاتعلق صوبہ جموں اور 59صوبہ کشمیر سے ہےں اور اس طرح اَب تک مثبت معاملات کی کل تعداد4,80,935تک پہنچ گئی ہے ۔
اِسی دوران آج63کووِڈ مریض شفایاب ہوئے ہیںجن میں 22 کا تعلق صوبہ جموں سے اور 41 صوبہ کشمیر سے ہیں۔
کووِڈ ویکسی نیشن کے بارے میں بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکوں کی مجموعی تعداد 2,47,82,105تک پہنچ گئی ہے ۔اِس کے علاوہ جموں و کشمیر میںزائد اَز 18 برس عمر کی صد فیصد آبادی کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔
حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ اَب تک نوول کورونا وائرس کے4,80,935 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں757( صوبہ جموں میں350 اور صوبہ کشمیر میں407)معاملات سامنے آئے ہیں۔اَب تک 4,75,389اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔
جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد4,789تک پہنچ گئی ،جن میں سے 2,433کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور2,356کاتعلق جموں صوبہ سے ہےں۔
بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 2,71,19,140ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے 16اپریل2023ئکی شام تک2,66,38,205نمونوں کی رِپورٹ منفی اور 4,80,935 نمونوں کی رِپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔
علاوہ ازیں اَب تک68,89,672افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔757فراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ119اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطابق68,84,007اَفرادنے نگرانی مدت پوری کی ہے۔
بلیٹن کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران آج ضلع وار کووِڈمثبت معاملات کی رِپورٹ فراہم کرتے ہوئے ضلع سری نگر میں13، ضلع بارہمولہ میں 03،ضلع بڈگام میں 06،ضلع کپواڑہ میں 13 ،ضلع اننت ناگ میں 13،ضلع بانڈی پورہ میں 04،ضلع کولگام میں 02اورضلع گاندربل میں 05 معاملے درج ہوئے ہیں۔پلوامہ اور شوپیان اَضلاع میں کسی بھی کووِڈ مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں ہے۔
اِسی طرح جموں میں 29، ضلع اودھمپور میں 06،ضلع کٹھوعہ میں 02،ضلع ڈوڈہ میں 02، ضلع کشتواڑ میں05اورضلع رام بن میں 01نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔راجوری ،سانبہ ،پونچھ اورریاسی اضلاع میں کسی بھی کووِڈ مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں ہے۔
Comments are closed.