ماہرہ شاہ: انڈین بک آف ریکارڈز میں اپنا نام شامل کرنے والی منڈلا آرٹسٹ

سری نگر،28 مارچ
میں منڈلا آرٹ کی وساطت سے اپنی خوبصورت وادی کشمیر کو دنیا کے اطراف و اکناف میں مشہور کرنا چاہتی ہوں۔میں نے یہاں کی مشہور روایتی چیزوں جیسے کانگڑی، سماوار، چرخے کو منڈلا آرٹ میں تراشا ہے تاکہ ہماری شاندار روایت دنیا بھر میں پہنچ جائے۔
یہ باتیں جنوبی کشمیر کے پنگلش ترال سے تعلق رکھنے والی منڈلا آرٹسٹ ماہرہ شاہ، جن کا بیاہ سلر پہلگام میں ہوا ہے، کی ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر منڈلا آرٹ میں دنیا کا سب سے چھوٹا شکارا بنا کر انڈین بک آف ریکارڈز میں اپنا نام شامل کیا ہے۔
انہوں نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا: ‘میں بچپن سے ہی اسکول میں ڈرائینگ اور پینٹنگ مقابلوں میں حصہ لیتی تھی اور وقت گذرنے کے ساتھ اس فن کے ساتھ میری دلچسپی بھی بڑھتی گئی’۔’منڈلا آرٹ کے ساتھ میری خاص طور پر دلچسپی بڑھتی گئی اور میں نے اسی فن کو سنوارنے میں اپنا وقت صرف کرنا شروع کیا’۔ان کا کہنا تھا: ‘میں نے ایک دن میں منڈلا آرٹ میں دنیا کا سب سے چھوٹا شکارا بنایا جس پر میں نے انڈین بک آف ریکارڈز میں جگہ حاصل کی’۔ماہرہ، جو ایک بچے کی والدہ بھی ہیں، نے کہا کہ میں منڈلا آرٹ کی وساطت سے اپنے کشمیر کو دنیا بھر میں مشہور کرنا چاہتی ہوں۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے منڈلا آرٹ میں کانگڑی، چرخہ، سماوار جیسی روایتی چیزوں کو بھی تراشا ہے تاکہ ہماری یہ شاندار روایت دنیا بھر میں پہنچ جائے’۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھی ورلڈ ریکارڈ بنا ہے لیکن فی الوقت کنفرمیشن نہیں ملی ہے۔مدرسہ تعلیم اسلام ترال سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے والی کا ریگر کا کہنا ہے کہ میں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیجز کھولے ہیں جن پر مجھے ان فن پاروں کے آرڈر ملتے ہیں اور ملک بھر سے مجھے آرڈر ملتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا یہ شوق میری روزی روٹی کا بھی ایک موثر وسیلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا بہتر استعال انتہائی فائدہ بخش ہے اور اپنے کام کی تشہیر کا ایک بہت آسان اور موثر وسیلہ ہے۔ماہرہ نے اپنے والدین اور سسروال والوں کی تعریفوں کی پل باندھتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنا یہ شوق پورا کرنے میں والدین اور سسروال والوں کا کافی سپورٹ رہا۔انہوں نے کہا: ‘گرچہ میری شادی کافی جلدی ہوئی لیکن میرے والدین نے مجھے کافی سپورٹ کیا اور مجھے اپنے اس شوق کو فروغ دینے میں مکمل آزادی دی اور اس کے بعد میرے سسرال والوں نے بھی مجھے بھر پور سپورٹ کیا جس کی وجہ سے میں یہ کام جاری سکی’۔نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا: ‘ہر کسی کی زندگی میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں لیکن ان سے دلبراشتہ ہونے کے بجائے سیکھنے کی ضرورت ہے اور اپنے فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لئے راہیں تلاش کرنی ہیں’۔
موصوفہ نے کہا کہ والدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں پر صرف ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننے کا دباﺅ نہ ڈالیں بلکہ انہیں اپنی دلچسپی کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے محنت کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔تاہم ماہرہ شاہ کو حکومت سے شکایت ہے، ان کا کہنا ہے: ‘حکومت کی طرف سے مجھے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی جس کا مجھے دکھ ہے’۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کوئی مجھے ملنے آیا نہ کسی نے کوئی حوصلہ افزا بات کی۔یو این آئی

Comments are closed.