کشمیر میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 150سے زائد مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس

سرینگر /23مارچ/کے پی ایس
جموں کشمیر میں گزشتہ دنوں 6.7شدت کے زلزلے کے بیچ اس بات کا انکشاف ہو گیا ہے کہ کشمیر میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 150سے زائد مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ ادھر ماہرین نے اس پر فکر و تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے زلزلوں سے ہونے والے نقصان سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے ۔

کشمیر پریس سروس کے مطابق ترکی اور شام میں آنے والے زلزلوں سے ہونے والی تباہی اور جموں کشمیر میں گزشتہ دنوں 6.7شدت کے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد ماہرین نے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر کے زیادہ تر حصے سیسمک زون چار اور پانچ کے تحت آتے ہیں اور یہاں زلزلے کے خطرات موجود ہے ۔ اسی دوران انڈین محکمہ موسمیات کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سالانہ اوسطاً 30 سے زائد زلزلے آتے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں، جموں و کشمیر میں تقریباً 150 زلزلے آئے جن میں سے زیادہ تر 3سے 6کی شدت کے تھے۔

آئے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر ماہرین بھی کافی فکر مند ہے اور وہ احتیاطی تدابیر اٹھانے پر زور دیں رہے ہیں ۔ جموں یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر منظور احمد ملک جو کہ ایک ماہر ارضیات ہے کا کہنا ہے کہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر ہمالیہ میں زیادہ شدت کا زلزلہ آسکتا ہے لیکن ہم وقت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہمارے پاس ایک نازک ماحولیاتی نظام ہے، ہمیں نقصانات کو کم کرنے کیلئے مناسب حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔امریکہ سے تعلق رکھنے والے دنیا کے اعلیٰ ماہر ارضیات میں سے ایک راجر بلہم نے بھی وادی کشمیر میں 9 شدت کے زلزلے کی پیشگوئی کی ہے۔
معروف ماہر ارضیات اور اسلامی یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو نے ایک ٹویٹ میں کہا، “آئیے معاشرے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کلچر بنانے کے لیے سخت محنت کریں تاکہ آخرکار انسانی اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے©“۔

Comments are closed.