مودی حکومت میں کشمیر میں ملی ٹنسی ، شمال مشرق میں شورش اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے تشدد میں 80 فیصد کمی آئی /امیت شاہ
سرینگر /18فروری /
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی سرکار میں ملی ٹنسی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی کی وجہ سے تشدد میں 80 فیصد کمی آئی ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ وادی کشمیر نے ایک سال میں تقریباً 1.8 کروڑ سیاح دیکھے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہ کشمیر میں 70 سالوں میں 12,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی تھی لیکن مودی حکومت کے تحت صرف تین سالوں میں اسے 12,000 کروڑ روپے ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہر گھر کو نل کا پانی اور بجلی فراہم کی گئی ہے، جو کہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔
مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ناگپور میں لوک مت میڈیا گروپ کے ذریعہ منعقدہ ایک تقریب میں بانی ایڈیٹر اور تجربہ کار آزادی پسند جواہر لال دردا، جو بابوجی کے نام سے مشہور ہیں، کی صد سالہ پیدائش اور شہر سے اس کے مراٹھی اخبار کے ایڈیشن کی گولڈن جوبلی منانے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ملک نے کشمیر میں دہشت گردی، شمال مشرق میں شورش اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نریندر مودی کی حکومت کے تحت تشدد میں 80 فیصد کمی دیکھی ہے،
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وزیر اعظم کا ویژن ہندوستان کو دنیا میں سب سے اوپردیکھنا ہے۔ ”امرت کال “کے تین بڑے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے، 25 سالہ دور جو ہندوستان کی آزادی کی صد سالہ پر اختتام پذیر ہوا،
Comments are closed.