سرحد پار 150خطرناک جنگجو دراندازی کیلئے تیار
30لانچنگ پیڈ وں پر ہتھیار بند جنگجووں کی غیر معمولی نقل وحرکت ؍مقامی ملی ٹینسی فوج کیلئے نیا چلینج
سرینگر؍25مئی ؍ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار سے 150سے زائدخطرناک جنگجو دراندازی کیلئے تیار ی کی حالت میں ہیں اور 30لانچنگ پیڈوں پر ہتھیار بند جنگجووں کی غیر معمولی نقل وحرکت کے باعث دراندازی میں زبردست اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔انٹیلی جنسی ایجنسیوںنے مزید کہا ہے کہ یہ جنگجو مختلف گروپوں میں تقسیم ہیں اور ان میں سے ایک گروپ نوگام سیکٹر میں فوج کے ہاتھوں حال ہی میں مارا گیا ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق خفیہ ایجنسیوں نے بات کا انکشاف کیا ہے کہ جموںوکشمیر میں دراندازی کا خطرہ برقرار ہے کیونکہ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے فراہم شدہ اطلاعات میں یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ سرحد پار دراندازوں کی بھاری تعداد اس پار دراندازی کی کوششوں میں مصروف ہے ۔سیکورٹی ایجنسیوں کو ملی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ سینکڑوںجنگجو سرحد پار سے دراندازی کیلئے تیاری کی حالت میں ہیں اور وہ کسی بھی وقت موقعے کا فائدہ اٹھا کر دراندازی کر سکتے ہیں تاہم ابھی تک انہیں اس سلسلے میںکامیابی حاصل نہیںہوئی ہے ۔اعداد وشمار میںمزید کہا گیاہے کہ قریب 150خطرناک جنگجو اس پار آنے کی فراق میں ہیں اور وہ موقعے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ لانچنگ پیڈوںپر ہتھیار بند جنگجووں کی غیر معمولی نقل وحرکت دیکھی گئی ہے جس کو دیکھتے ہوئے یہ جنگجو مختلف گروپوںمیںتقسیم بھی ہو گئے ہیں۔جس کا مقصد گروپوں کے طور پر وہ دراندازی کر سکتے ہیں۔ایجنسیوں کے مطابق اسی طرح کا ایک گروپ حالیہ دنوں نوگام سیکٹر میںدراندازی کرکے آیا تھا جس کو فوج نے گھیرے میں لے لیا تھا ۔اس انکاونٹرمیں چار درانداز اور تین فوجی اہلکار بھی مارے گئے تھے ۔ ۔ان ایجنسیوں کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کے حوالے سے جو کاروائیاں ہو رہی ہیں اور آئی ایس آئی ایس کی کارستانیوں کے باعث زیادہ سے زیادہ نوجوان ان کا شکار ہورہے ہیںلہذا جموںوکشمیر میں بھی اس صورتحال کو پیدا ہونے سے پہلے ہی قابو کرنے کی ضرورت ہے ۔ ادھر فوج کے اعلیٰ آفسیر نے کہا کہ علیحدگی پسند عالمی سطح پر ابھرنے والی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لہذا فوج کو کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ی کی حالت میںرہنا ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ جنگجو انٹرنیٹ سروس کیساتھ ساتھ دیگر سہولیات کا استعمال بھی کر رہے ہیںاور وہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ فوجی آفیسر کا ماننا ہے کہ چونکہ ریاست جموںوکشمیر میںکسی حد تک مقامی سطح پر ملی ٹینسی نے ابھار لیا ہے اور ایسے میں صورتحال کو قابو میںرکھنے کیلئے کام کرنا ہی ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا اب جنگجوئیت پھیلانے کا واحد ہتھیار بن گیا ہے اور اس کے استعمال سے نوجوانوںکو آئی ایس آئی ایس کی صفوںمیں شامل کرنے کی سازشیں بھی ہور ہیں۔ الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے کہاکہ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو کہ نوجوانوںکو عسکریت کیلئے اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم انہوںنے کہا کہ ہمیں اس وقت سب سے زیادہ خطرہ سرحد پار کی دراندازی سے ہے اور امکانی طور پر 150جنگجووں کے دراندازی کرنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے کنٹرول لائن کے اس پار لانچنگ پیڈوں پر جنگجووں کی غیر معمولی نقل وحرکت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ فوج کو چوکنا رکھا گیا ہے تاکہ یہ دراندازی اس پار داخل ہونے میںکامیاب ہوجائیں ۔فوجی کمانڈر جنرل دوحا کا کہنا تھا کہ ہمیں چوکنا رہنا ہوگا کیونکہ جموںوکشمیر میں سرحد پار دراندازی کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جنوبی کشمیر میںمقامی سطح کی ملی ٹینسی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں رواں سال کے دوران کئی ایک خونریز جھڑپیں بھی ہوئی جس میں جنگجووں کی بڑی تعداد ماری گئی ہے اوران میں زیادہ تر مقامی نوجوان تھے ۔فوجی کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی کشمیر میں احتجاجی مظاہروں میںبھی شدت آئی ہے اور امن کو غارت کرنے والے عناصر بھی کافی حد تک سرگرم ہیں۔ تاہم انہوںنے کہاکہ آئی ایس ائی ایس ایک خطرہ بدستور ہے لیکن کوئی فوری خطرے والی بات نہیں ہے ۔انہوںنے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ حالیہ مہینوں میں سرحد پار سے کئی ایک جنگجو دراندازی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے ہمیں مزید دراندازی سے نمٹنے کیلئے تیاررہنا ہی ہوگا ۔انہوںنے انتباہ دیا ہے کہ انٹرنیٹ ،سماجی ویب سائٹیں اور علحیدگی پسند ریاست جموںوکشمیر میںانارکی پھیلانے کا کام کر رہے ہیں اوراس سلسلے میں ہمیں سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی کافی حد تک متحرک رہنا ہوگا ۔
Comments are closed.