امیت شاہ کی صدارت میںسری نگر میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ منعقد

کشمیر کو دہشت گردی سے آزاد کرانے کے لئے ملی ٹینسی مخالف آپریشنز کو تیز کیا جائے /وزیر داخلہ

سری نگر،05 اکتوبر
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو سری نگر میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں سیکورٹی کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول جموں وکشمیر کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ، اے ڈی جی پی وجے کمار، فوج کی پندرہویں کور کے جی او سی، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ڈی جی اور آئی جی کے علاوہ وزیر داخلہ کے ہمراہ وازرات داخلہ کی ٹیم نے شرکت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ دوران وزیر داخلہ نے سیکورٹی کے افسروں کو جموں و کشمیر کو ملی ٹنسی سے آزاد کرنے کے لئے ملی ٹنسی مخالف آپریشنز کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران امیت شاہ نے دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد ملی ٹنسی کو قابو میں کرنے اور در اندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے کئے جانے والے سیکورٹی فورسز کے رول کی سراہنا کی۔
معلوم ہوا ہے کہ موصوف وزیر داخلہ نے تشدد سے متعلق واقعات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہونے پر سیکورٹی فورسز کا تشکر ادا کیا اور انٹیلی جنس پر استوار ملی ٹنسی مخالف آپریشنز پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ایک عام شہری کو اپنی زندگی گذر بسر کرنے کے لئے آزاد ماحول فراہم کیا جانا چاہئے جبکہ امن دشمن عناصر اور ان کے حامیوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے نوجوانوں تک پہنچنے اور ضلع سطح پر سپورٹس انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اقدام کرنے پر بھی زور دیا۔
شاہ نے میٹنگ کے دوران سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے فوج کے رول کی سراہنا کی۔وزیر داخلہ نے میٹنگ کے دوران سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ کشمیر کی سرزمین سے ملی ٹینسی کا قلع قمع کرنے کی خاطر ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز میں شدت لائی جائے تاکہ لوگوں کوحقیقی جمہوریت اور امن کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔ اس موقع پر جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے امن و امان کے قیام کی خاطر سیکورٹی فورسز کی جانب سے اپنائی جارہی پالیسی کے بارے میں وزیر داخلہ کو آگاہی فراہم کی۔ایل جی منوج سنہا نے کہاکہ ”ہم بیگناہ کو چھیڑو مت اور گنہگار کو چھوڑو مت “کی پالیسی پر کاربند ہے ۔وزیر داخلہ نے میٹنگ کے دوران آفیسران پر زور دیا کہ عام آدمی کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ وہ آزاد ہے جبکہ امن دشمن عناصر بشمول ملی ٹینٹ اور اُن کے حامیوں کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے اور اُنہیں سختی کے ساتھ کچلنا اب ناگزیر بن گیا ہے۔ میٹنگ کے دوران سوشل میڈیا چیلنجزبشمول ہینڈلرز کے ذڑیعے شروع کئے جانے والے آن لائن پروپگنڈہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیر داخلہ نے کہا :’سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اکسانے والوں کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔‘انہوں نے کہا کہ بنیادی پرستی کے رجحان کو روکنے کی خاطر دوسرے آپشن کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پیجز بند کئے جانے چاہئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران نوجوانوں کو کھیل کود کی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لئے ضلعی سطحوں پر کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کرنے پر زور دیا۔

Comments are closed.