میں جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہوں/امیت شاہ

سری نگر،05 اکتوبر
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ اور دیگر تیاریاں مکمل ہونے کے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عبداللہ اور مفتی خاندانوں کو جموں و کشمیر میں 42 ہزار لوگوں کہ ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کے لئے تیار ہوں۔
موصوف ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک عظیم الشان عوامی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’جموں و کشمیر میں حتمی ووٹر لسٹ بن جانے اور دیگر متعلقہ تیاریاں جیسے لوازمات مکمل ہونے کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے گا‘۔ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل جاری ہے اور اس پر کام زوروں سے چل رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا: ’عبداللہ اور مفتی خاندان جموں وکشمیر میں 42 ہزار لوگوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان خاندانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے سیاست کی‘۔انہوں نے کہا: ’ان خاندانوں نے اپنے ذاتی فائدے کے لئے جموں و کشمیر کے وسائل کو لوٹا اور عام لوگوں کے لئے کچھ بھی نہیں کیا‘۔امیت شاہ نے کہا کہ بارہمولہ بھی ایک زمانے میں ملی ٹنسی کا مرکز تھا اور ملی ٹینسی سے متعلق واقعات کا رونما ہونا یہاں ایک معمول بن گیا تھا۔انہوں نے کہا: ’لیکن آج یہ جگہ سیاحوں کی آمد کا مرکز بن گیا ہے اور گلمرگ، یہاں کی خانقاہیں اور برف پوش پہاڑ سیاحوں کے لئے باعث کشش بن گئے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بغیر جموں وکشمیر کی ترقی ممکن نہیں تھی اور آج یہاں بہترین سڑکیں، پل، ہسپتال ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آج اے آئی آئی ایم ایس اورنرسنگ کالجوں کے علاوہ نو میڈیکل کالج ہیں۔انہوں نے کہا کہ گجر، بکروال اور پہاڑی طبقوں کو اپنے حقوق دئے جائیں گے جو گذشتہ 75 برسوں سے جمہوریت کے فوائد سے محروم تھے۔موصوف وزیر داخلہ نے کہا کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ بات کرے گی نہ پاکستان کے ساتھ۔انہوں نے کہا: ‘میں جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کے لئے تیار ہوں کن پاکستان کے ساتھ نہیں‘۔امیت شاہ نے گجر، بکروال اور پہاڑی طبقے کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جموں وکشمیر میں ان تین خاندانوں، جنہوں نے حکومت اپنے آپ، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک محدود رکھی ہے، کی ہر الیکشن میں شکست کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا: ’ان تین خاندانوں نے 70 برسوں تک یہاں خاندانی راج کیا اور عام لوگوں کو جمہوریت کے لئے ترسایا۔ان کا کہنا تھا: ’آج یہاں لوگوں کو گرام پنچایت ہے، ضلع پنچایت اور تحصیل پنچایت ہے جو گذشتہ70 برسوں کے دوران نہیں ہوا کرتا تھا‘۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار سال رواں کے ماہ اول سے 1.62 کروڑ سیاحوں نے یہاں کے سیاحتی مقامات کی سیر کی۔انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کو گجر، بکروال اور پہاڑی طبقوں کو نمائندگی دینے کے لئے تشکیل دیا گیا جو بصورت دیگر ایک خواب ہی تھا۔ان کا لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہنا تھا: ’یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ آپ لوگوں کا استحصال کیا‘۔مسٹر شاہ نے پاکستانی حملہ آوروں کے خلاف مقبول شیروانی کے رول کی سراہنا کی۔انہوں نے بجلی، روڈ اور جل شکتی جیسے کئی پروجیکٹوں کی سنگ بنیاد بھی ڈالی۔

Comments are closed.