سرحدوں پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیاں ، پنجاپ میں سرگرمیاں بڑی لیکن جموں میں کمی آئی

گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال ابھی تک جموں میں 14 اور پنجاب سیکٹر میں 93 ڈرون دیکھے گئے / بی ایس ایف

سرینگر/31اگست/

بی ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کی سرحد پر ڈرون کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم انٹر بین الاقوامی سرحد جموں میں ڈرون کی سرگرمیوں میںکمی دیکھنے کو ملی ہے ۔
بی ایس ایف کے مطابق سال 2021 میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ سرحد پار سے آنے والے 97 ڈرون دیکھے جن میں پنجاب میں 64، جموں میں 31 اور جموں میں لائن آف کنٹرول سے دو ڈرون داخل ہوتے دیکھے گئے۔جبکہ امسال ابھی تک 107 ڈرون دیکھے گئے جن میں جموں میں 14 اور پنجاب سیکٹر میں 93 ڈرون شامل ہیں ۔

جموں سیکٹر کے مقابلے میں پنجاب میں امسال پاکستان سے آنے والے ڈرون سرگرمیوں میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ بی ایس ایف کے مطابق امسال ماہ جولائی تک سرحد پار سے کل 107 ڈرون سرگرمیاں ہندوستانی حدود میں دیکھے گئے، جب کہ پچھلے سال 97 ڈرون دیکھے گئے۔بی ایس ایف نے 2021 میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ سرحد پار سے آنے والے 97 ڈرون دیکھے جن میں پنجاب میں 64، جموں میں 31 اور جموں میں لائن آف کنٹرول سے دو ڈرون داخل ہوتے دیکھے گئے۔

تاہم امسال 2022 سے جولائی تک بین الاقوامی سرحد پر 107 ڈرون دیکھے گئے جن میں جموں میں 14 اور پنجاب سیکٹر میں 93 ڈرون شامل ہیں اور جموں میں لائن آف کنٹرول سے کوئی ڈرون داخل ہوتا نہیں دیکھا گیا۔بی ایس ایف کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر ڈرون پاکستان سے آئے ہیں اور ان کا استعمال منشیات، ہتھیار، دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود پہنچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ”اینٹی ڈرون بندوقوں والی ٹیمیں سرحدوں پر تعینات ہیں۔ گشت کرنے والی جماعتیں کسی بھی مشکوک فضائی سرگرمی پر نظر رکھتی ہیں اور اکثر وہ ان ڈرونز سے نشہ آور اشیاءاور اسلحہ برآمد کر لیتے ہیں“۔ سال 2021 میں بی ایس ایف نے فیروز پور سیکٹر میں ایک ڈرون کو مار گرایا تھا جبکہ اس سال سات ڈرون مار گرائے گئے تھے اور ڈرون کے ذریعے بڑی مقدار میں منشیات کی ترسیل کی جانی تھی۔

Comments are closed.