خمریال کپوارہ کے33سالہ شخص کی گمشدگی اور15روزبعدنعش ملنے کامعمہ؛ لواحقین کوہمسایہ کنبے پرشبہ

تحقیقات جاری ،فی الوقت کوئی نتیجہ اخذ کرناصحیح نہیں :ایس ایس پی کپوارہ امبرکر شری رام دنکر

ہندوارہ:۱۱،فروری:جے کے این ایس : سرحدی ضلع کپوارہ کے خمریال علاقہ کے ایک 33سالہ شخص کی گمشدگی کے پندرہ روز بعدنزدیکی علاقہ چیرہ کوٹ کے جنگل سے نعش برآمد ہونے کامعاملہ ہنوز ایک معمہ بناہواہے ،جبکہ مہلوک شخص کے لواحقین کوشبہ ہے کہ لاپتہ ہونے سے ایک رات پہلے جس ہمساےے کے ہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا،وہ ہمساےے اس کے مبینہ قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں ۔تاہم ایس ایس پی کپوارہ امبارکر شری رام دنکر کاکہناہے کہ ابھی اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اورفی الوقت کوئی نتیجہ اخذ کرناصحیح نہیں ہوگا۔جے کے این ایس کومعلوم ہواکہ ازی گنڈ خمریال کپوارہ کا33سالہ جاوید احمدمیر ولد محمددلاورمیر 14جنوری2021کوشام کے وقت گھرسے نکلنے کے بعدپُراسرار طورپرلاپتہ ہوگیا۔اہل خانہ کے مطابق اگلی صبح جب ہم نے اُس کوتلاش کرنے کی کوشش کی تو ہماری ہمسائیگی میں رہنے والے محمدرفیق ڈار ولد غلام محمد نے ہمیں بتایاکہ جاویداحمد 14جنوری کی شام کواُنکے گھرآیاتھا،اوریہیں سوگیا۔مہلوک شخص کے بھائی نصیراحمدمیر کے بقول محمدرفیق ڈار نے اُنھیں بتایاکہ جب وہ (محمدرفیق) اگلی صبح یعنی15جنوری کوصبح نماز فجر اداکرنے کے بعدمسجد سے گھرلوٹا تواُس نے جاوید میرکویہاں نہیں دیکھا ۔نصیراحمد نے بتایاکہ میرے بھائی کوقتل کیاگیا ہے ۔اُس کاکہناتھاکہ ہم نے جاوید کوتمام ممکنہ جگہوںپرتلاش کیا ،اورجب اسکا کہیں سے کوئی سراغ نہیں مل پایاتو میں نے سرپنچ محمدمقبول میر کوساتھ لیکر 15جنوری کونزدیکی پولیس تھانے میں جاوید احمد کی گمشدگی سے متعلق رپورٹ درج کرادی ۔انہوں نے بتایاکہ اسکے بعدپولیس نے بھی جاوید کوتلاش کرنے کی کارروائی عمل میں لائی لیکن پولیس کوبھی کوئی سراغ نہیں مل پایا۔نصیر احمد کاکہناتھاکہ گمشدگی کے پندرہ روز بعدہمیں جاوید احمدکی نعش نزدیکی علاقہ چیرہ کوٹ کے مضافاتی جنگل سے ملی ،اورہم نے اسکے جسم پرتشددکے نشانات دیکھے ،جس سے یہ ظاہرہوریاتھاکہ اس کوبے دردی کیساتھ موت کی نیندسلادیاگیاہے ۔نصیر احمد نے بتایاکہ میرے مہلوک بھائی کے دومعصوم بچے ہیں ،جن میں سے ایک کی عمر محض ڈیڑھ سال جبکہ دوسرے بچے کی عمر ایک ماہ ہی ہے ،اوراب میں پریشان ہوں کہ ان دومعصوم یتیموں کاکیاکرؤں ۔نصیراحمد نے بتایاکہ چیرہ کوٹ جنگل سے نعش ملنے کے بعدپولیس تھانہ سوگام کی ایک ٹیم نے نعش کوسب ڈسٹرکٹ اسپتال سوگام پہنچایا،جہاں نعش کاپوسٹ مارٹم کرایاگیا ،اورپولیس نے دیگرلوازمات کوبھی پورا کیا،اورہمیں جاوید کی نعش سپردکی گئی ۔ بھائی کی پُراسرار گمشدگی اورپھراسکی نعش جنگل سے برآمد ہونے سے نڈھال نصیراحمد میر ولد محمددلاور میرساکنہ ازی گنڈ خمریال کپوارہ نے بتایاکہ مجھے شبہ ہے کہ میرے بھائی کی گمشدگی اورپھراسکو قتل کئے جانے میں میرے ہمساےے ملوث ہیں ،کیونکہ میرابھائی لاپتہ ہونے سے ایک رات پہلے اُن کے ہاں ہی ٹھہرا تھا ،جس کااعتراف ہمارے ہمسایوں نے خود کیاہے ۔نصیر احمد نے پولیس حکام سے اپیل کی کہ جاوید احمد میر کی پُراسرار گمشدگی اورپھر پندرہ روز بعداسکی نعش چیرہ کوٹ جنگل سے برآمد ہونے کے سارے واقعے کی تحقیقات میں تیزی لاکر ملوثین کوبے نقاب کیاجائے ۔اسبارے میں ایس ایس پی کپوارہ امبارکر شری رام دنکر کاکہناہے کہ ابھی اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اورفی الوقت کوئی نتیجہ اخذ کرناصحیح نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایاکہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہے اوربہت جلد اس کوحل کیاجائیگا۔

Comments are closed.