جموںکشمیر میں گزشتہ سال عسکری سرگرمیوں ، سنگ باری اور دراندازی کے واقعات میںنمایاں کمی / جی کیشن ریڈی

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر عسکریت پسند سرگرمیوں سے متاثر ہو گیا تھا

سرینگر/08فروری: جموںکشمیر میں سال 2020میں عسکری سرگرمیوں ، سنگ باری اور دراندازی کے واقعات میںنمایاں کمی ریکارڈ کی گئی کی بات کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے امور جی کیشن ریڈی نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر عسکریت پسند سرگرمیوں سے متاثر ہو گیا ہے لہذا لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ امور جی کشن ریڈی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں کے تشدد کے واقعات اور پتھراؤ کے واقعات کی تعداد 2019 کے مقابلے میں 2020 میں بہت کم ہوگئی ہے۔ریڈی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سال 2019 میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں 27 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 2020 میں یہ تعداد 71 ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں مجموعی طور پر 157 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا اور 2020 میں 221 جنگجوئوںکا جاں بحق کر دیا گیا ۔ ریڈی نے مزید کہا کہ 2019 میں عسکریت پسندوں کے تشدد کے 594 واقعات ہوئے تھے ، جو 2020 میں 244 تک پہنچ گئے ۔ جبکہ2020 میں پتھراؤ کے 327 واقعات رونما ہوئے ۔ ریڈی نے کہا کہ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کے واقعات اور پتھراؤ کے واقعات میں کمی آئی ۔ ریڈی نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر عسکریت پسند سرگرمیوں سے متاثر ہو گیا ہے لہذا لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔

Comments are closed.