ڈنگی وچھہ سے پازلپورہ رفیع آباد تک سڑک کی حالت ناگفتہ بہہ؛ لوگوں کو مشکلات ، تجدید ومرمت کاکا م ٹھپ ، وعدے سراب ثابت ،انتظامیہ کیلئے غور طلب

سرینگر /8فروری /کے پی ایس : سرکاری طور سڑکوں کی تجدید ومرمت اور کشادگی کا عمل جاری رکھنے کیلئے تعمیراتی ایجنسیوں یا محکمہ آر اینڈ بی کو فنڈس واگذار کرنے کے بلند دعوے کئے جارہے ہیں تاہم زمینی سطح پر یہ دعوے سراب ثابت ہورہے ہیں ۔کیونکہ مختلف جگہوں کی سڑکیں بشمول ڈنگی وچھہ سے پازلپورہ رفیع آباد کی سڑک ویرانی کی کیفیت بیان کررہی ہیں ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ ڈنگی وچھہ سے پازلپورہ تک تقریباً12کلومیٹر سڑک کی حالت انتہائی خستہ اور ناگفتہ بہہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ سڑک میں ایسے گھڑے اور خندق ہوئے ہیں جس سے سے لوگوں کا عبور ومرور اور گاڑیوں کی آمد رفت مشکل بن گئی ہے اور گاڑیوں کے چلتے وقت حادثہ پیش آنے کا ہر وقت اندیشہ رہتا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ مذکورہ سڑک کی تجدید ومرمت اور کشادگی کیلئے فنڈس واگذار ہوئے ہیں ۔لوگوں نے سڑک کے کنارے اپنی ملکیتی زمینیں بھی چھوڑی ہیں اور مرمت کا کام بھی شروع کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء کام اچانک ٹھپ ہوا اوکئی برسوں سے متعلقہ ٹھیکہ دار اور متعلقہ انجینئروں کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں ہے ۔اگر چہ لوگوں کے کافی اسرار اور اخبارات میں یہ خبر باربار شائع ہونے کے بعد مذکورہ سڑک کی مرمت کیلئے سست رفتار سے ہی سہی کام شروع کیا گیا تھا تاہم پھر اچانک بند ہوا ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ سڑک کے ساتھ سوسے زائد دیہات کے لوگ منسلک ہیں اور یہ سڑک ان کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہے اور اس سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوچکی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ڈنگی وچھہ سے راوچھہ ،چنم ،زتھن ،کنکروسہ ،پکھوارہ سے ہوتے ہوئے پازلپورہ تک سڑک کی حالت انتہائی عذاب دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار متعلقہ حکام کی نوٹس میں لانے کے باوجود بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے اوراس معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کو ہدایت دیں کہ مذکورہ سڑک کی خستہ حالی کے پیش نظر اس پرجنگی پیمانے پر کام شروع کی جائے ۔تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔

Comments are closed.