لاوئے پورہ جھڑپ ـ: آئی جی پی کشمیر کے بیان کے بعد دونوں مہلوک نوجوانوں کے افراد خانہ کی فریاد

بیٹے کی نعش فراہم کی جائے ،جو قبر کھودی ہے رات کی تاریکی میں اُسی میں سپرد خاک کروں گا / مشتاق احمد

’’اگر ہمارے بچے جنگجو ثابت ہوئے تو ہم خاموش رہیں گے اور کبھی نعشوں کا مطالبہ نہیںکریگے ‘‘/ لواحقین

سرینگر /19جنوری: لاوئے پورہ سرینگر جھڑپ سے متعلق آئی جی پی کشمیر وجے کمار کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اہل خانوں نے کہا کہ ’’اگر ہمارے بچے جنگجو ثابت ہوئے تو ہم خاموش رہیں گے ‘‘۔اسی دوران مہلوک نوجوان اطہر مشتاق کے والد نے مطالبہ کیا کہ انہیں بیٹے کی نعش فراہم کی جائے وہ اسکو رات کی تاریکی میں سپرد خاک کر یں گا ۔ سی این آئی کے مطابق آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے سوموار کو اپنے بیان میںکہا کہ لاوئے پورہ جھڑپ میں جاںبحق تینوں نوجوانوں کی نعشوں کو کورونا بیماری کے پیش نظر لواحقین کے سپرد نہیںکی جا سکتی کیونکہ وہاں بھیڑ جمع ہونے کے باعث انسانی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔ آئی جی پی کشمیر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جھڑپ میں جاںبحق بیلو پلوامہ کے نوجوان اطہر مشتاق کے والد مشتاق احمد نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو میں لکھ کر دیتا ہوں کہ میرے بیٹے کی نعش واپس کرنے کے بعد ایسی کوئی بات نہیںہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بیٹے کی نعش فراہم کی جائے اور میں رات کی تاریکی میں اکیلے ہی اپنے بیٹے کو اس قبر جو میں نے اس کیلئے کھودی ہے میں سپرد خاک کروں گا ۔ مشتاق احمد کے مطابق میرے علیل بزرگ والدین یعنی اطہر کے دادا داری اس کی آخری بار شکل دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی دوران عین شاہدین کے مطابق اطہر مشتاق احمد اور زبیر وانی کے لواحقین نے ایک پُر امن مارچ بھی علاقہ میں نکلا جو کئی گلی سے ہو کر گزرا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ریلی میں شامل افراد نے کالے بینرس ہاتھوں میں اٹھا رکھیں تھے جن پر نعشیں واپس کرنے کے الفاظ تحریر تھے ۔ اطہر مشتاق کے والد مشتاق احمد نے بتایا کہ حالیہ میں ایک پولیس اہلکار جو کہ اسکا قریبی رشتہ دار تھا مارا گیا تاہم اس کے نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔ جبکہ وہاں کورونا وائر س کا کوئی خطرہ نہیں تھا تو میرے بیٹے کی تجہیز و تکفین میںکس طرح کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے بیٹے کی نعش واپس کی جائے اور میں لکھا کر دیتا ہوں کہ کہیں بھی کورونا گائیڈ لائیز کی خلاف ورزی نہیںہوگی ۔ اس موقعہ پر ایک اور مہلوک نوجوان زبیر احمد کے قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ اگر ہمارے بچے واقعی جنگجو ثابت ہوئے تو ہم ہمیشہ خاموش بیٹھے گئے ۔اور ان کی نعشیں کا کھبی مطالبہ نہیںکریں گے تاہم انہوںنے کہا کہ ابھی کوئی ثبوت ہی نہیں ہے کہ ہمارے بیٹوںکو عسکریت سے کوئی تعلق تھا تو کن وجوہات کی بنا پر ان کی نعشیں ہمارے فراہم نہیںکی جا رہی ہے ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ ان کے لخت جگروں کی نعشیں فراہم کی جائے تاکہ وہ انہیں آبائی علاقوںمیں سپرد خاک کر سکے ۔

Comments are closed.