کووڈ19مخالف پہلے مرحلے کے تحت ٹیکہ کاری; بڑی تعداد میں طبی عملہ اور ڈاکٹر وںنے ویکسین نہیں لیا /ذرائع

سرینگر/18جنوری: جموں کشمیر میں طبی عملہ کی بڑی تعداد نے کووڈ 19ویکسین نہیں لیا ہے جبکہ 16جنوری کو ویکسین کیلئے جن ہیلتھ ورکروں اور ڈاکٹروںنے اپنا نام درج کروایا تھا ان میں سے بہت سارے اس سے دورہی رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ویکسین کے منفی رد عمل کے خوف کی وجہ سے بہت سے لوگوںنے ویکسین نہیں لیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارت بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی 16جنوری کو کوروناوائرس مخالف ٹیکہ کاری مہم کا باضابطہ آغاز کیاگیا ۔ اس سلسلے میں جموں کشمیر کے مختلف ہسپتالوں میں پہلے مرحلے کے تحت ہیلتھ ورکرو ں بشمول ڈاکٹر صاحبان کو ویکسین دیا گیا تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہیلتھ ورکروںکی بڑی تعداد نے ویکسین نہیں لیا ۔ ذرائع کے مطابق ویکسین کے رد عمل سے بے خبری کی وجہ سے بہت سارے ہیلتھ ورکروں اور ڈاکٹروںنے ویکسین نہیں ہے جبکہ جن لوگوںنے ٹیکہ کاری کیلئے اپنا نام درج کیا تھا ان میں سے بھی اکثر لوگوں نے ویکسین نہیں لیا ۔ اس سلسلے میں سی این آئی نے کئی افراد سے بات کی جنہوںنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ یہ ویکسین کا پہلا مرحلہ تھا اور ابھی تک اس کوعام لوگوں پر نہیں آمایا گیا تھا اسلئے اس کے رد عمل کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے اس لئے ہم نے فی الحال ٹیکہ کو نہ لینے کا فیصلہ لیا ہے ۔ یاد رہے کہ جموں کشمیر کے بڑے ہسپتالوں ، ایس ایم ایچ ایس ، سکمز صورہ، سکمز میڈیکل کالج اور دیگر جگہوں پر 16جنوری کو باضابطہ طور پر کووڈ 19ویکسین مہم کا آغاز ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی کہ بہت سے ہیلتھ ورکر جن میں ڈاکٹر نرسیں اور دیگر عملہ ہے ویکسین لینے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہیں ۔ (سی این آئی )

Comments are closed.