برستی بارش میں دلی میں گرفتار تین نوجوانوں کے اہلخانوں کا پریس کالونی میں احتجاج
کہا تینوں کو جرم بے گناہی میں گرفتار کیا گیا ، رہائی کیلئے لفٹنٹ گورنر اور پولیس سربراہ سے مداخلت کی اپیل
سرینگر/08دسمبر/سی این آئی// مغربی دلی میں جھڑپ کے بعد گرفتار کئے گئے تین کشمیری نوجوانوں کے اہل خانوں نے برستی بارش کے بیچ پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بتایا کہ دلی پولیس کے ہاتھوں گرفتار کئے گئے ان کے لخت جگر بے قصور ہے او ر مطالبہ کیا کہ انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے ۔ سی این آئی کے مطابق سوموار کو دلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ شکر پوردلی میں جھڑپ کے بعد پانچ افراد کی گرفتاری عمل میںلائی گئی جن میں سے تین کشمیری اور دو پنچاب کے ہیں ۔ جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا ان سے قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کر لیا گیا ہے ۔ دلی میں گرفتار کئے گئے وسطی ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے تینوں نوجوانوں کے اہل خانوں نے منگل کوبرستی بارش میں پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ دلی پولیس کی جانب سے کیا گیا دعویٰ بے بنیاد ہے اور ان کے لخت جگروں کو جرم بے گناہی میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاجی اہل خانوں نے بتایا کہ تینوں نوجوان بے قصور ہے اور ان کا عسکریت سے دور کا بھی تعلق نہیںہے ۔ انہوںنے بتایا کہ دلی پولیس نے جو دعویٰ کیا ہے کہ وہ سفید جھوٹ ہے ۔کیونکہ جموں کشمیر میںہمارے بچوں کو آج تک کھبی پولیس نے ہاتھ تک نہیںلگایا ہے ۔ اس موقعہ پر گرفتار کئے گئے ایک شہری کے بیٹے نے سوالیہ انداز میں بتایا کہ کیا کشمیری دلی نہیں جا سکتے ہیں اور کیا کشمیریوں کو دلی جانا ہی جرم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد بینڈ سا مل چلاتے ہیں اور عسکریت سے ان کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہیںہے ۔ ایک اور گرفتار شہری کی بیوی نے بتایا کہ ان کے شوہر اجمیر شریف زیارت کیلئے جا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کو جرم بے گناہی میں گرفتار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کی رہائی جلد از جلد عمل میںلائی جائے ۔ احتجاجی کنبوں نے جموںکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور پولیس سربراہ دلباغ سنگھ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بیٹوں کی رہائی کو ممکن بنانے کیلئے اپنا رول ادا کریں ۔
Comments are closed.