سرینگر/08دسمبر/سی این آئی// ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی کشیدگی کے بیچ بھارتی سیاسی قیادت نے فوج کو حقیقی حد متارکہ پر چھ سے سات جگہوں پر قبضہ کرنے کیلئے نشاندہی کرنے کی ہدایت کی تھی جہاں سے چینی فوج کو آگے آنے کا موقع نہ سکے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق ہندوستان اور چین کے مابین لداخ خطے میں ایکچول لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے دوران جب بھارتی سیاسی قیادت کے متعدد لیڈران نے لداخ کا دورہ کیا تھا جس دوران سیاسی قیادت نے فوج کو ہدایت کی تھی کہ وہ حقیقی لائن آف کنٹرول پر چھ یا سات جگہوں کی نشاندہی کریں جہاں پر وہ قبضہ کرکے چینی فوج کی پیش قدمی میں رُکاوٹ ڈال سکتے ہیں تاکہ چینی فوج کو مزید آگے جانے کا موقع نہ ملے ۔ میڈیا رپوٹس کے مطابق ہندستان اور چین سرحد پر جاری تعطل کے دوران مئی میں سیاسی حلقوں کی طرف سے فوج کو لائن آف ایکچول کنٹرول ‘6۔7 جگہوں کو پہچان کر قبضہ کرنے کا’ حکم ملا تھا۔ انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، ایک سرکاری آفیسر نے یہ جانکاری دی۔ رپورٹ میں آفیسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہدایات کے بعد فوج نے منصوبے بنائے اور اگست کے آخر میں چینی فوجیوں کو مات دے کر مکھپری، ریزانگ لا، روچن لا اور گرنگ ہل اور سب سیکٹر میں پینگانگ تسو کے جنوبی کنارے کے خطے پر قبضہ کر لیا۔آفیسر نے کہا کہ سیاسی قیادت نے مئی میں ہی ان چھ سے سات جگہوں کی پہچان کرنے کی ہدایت دی تھی جہاں ہم جا سکتے تھے۔ ان پوسٹس کی اہمیت کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے آفیسر نے کہا کہ ان میں سے کئی ایل اے سی سے آگے ہیں۔ آفیسر نے کہا ‘ اس نے ہندستان کو چین سے بات کرنے کے لئے کچھ دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، آفیسر نے کہا کہ ہندستان، چین سے نویں دور کی بات چیت کے لئے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ 6 نومبر کو دونوں ملکوں کے درمیان 8ویں دور کی بات چیت ہوئی تھی۔ آفیسر کے مطابق، چین نے پہلے پینگونگ تسو کے شمالی ساحل پر فنگر 4 سے فنگر 8 تک اپنے فوجیوں کو ہٹانے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن اب وہ ایسا نہیں چاہتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی اعلیٰ قیادت اس بات کو لے کر راضی نہیں ہے۔آفیسر نے کہا کہ چین ستمبر سے یہی مانگ کر رہا ہے کہ ہندستانی فوجیوں کو چشول سب سیکٹر اور پینگونگ تسو کے جنوبی علاقے کی اونچائیوں سے واپس جانا چاہئے۔ آفیسر نے کہا ‘ چین چاہتا ہے کہ ہم جنوبی (بینک) سے جائیں۔ ہم نے چین سے کہا کہ حل ایک ہونا چاہئے تاکہ سبھی تعطل والی جگہوں پر تبادلہ خیال ہو۔ جنوبی بینک کو پہلے خالی کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔رپورٹ کے مطابق، آفیسر نے کہا کہ بات چیت میں وقت لگ سکتا ہے اور حکومت انتظار کرنے کو تیار ہے۔ آفیسر نے کہا کہ اگر کوئی حل تلاش نہیں کیا گیا تو حکومت اور فوج طویل انتظار کے لئے تیار ہیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.