عام آدمی کا مہنگائی کے ساتھ نبردآزما ہونے کا آغاز ؛ اشیاء ضروریہ اور گرم ملبوسات اور خشک سبزیوں کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ

سرینگر/24نومبر: شدت کی سردی اور بادشاہ چلہ کلان کی آمد سے قبل ہی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کی خاموشی اور عدم توجہی سے دکانداروں اور ریڑہ والوں نے اشیاء ضروریہ خاص کر گرم ملبوسات اور خشک سبزیوں کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے اور وہ اپنے من مانی قیمتوں پر ان چیزوں کو فروخت کرتے ہیں جبکہ مٹن ڈیلروں اور انتظامیہ کے مابین نرخ معاملے پر کھینچا کھینچی کے بیچ قصابوں کی دکانیں بند پڑی ہے اور اگر کہیں پر کوئی صبح کے اوقات میں قصاب دکھان بیٹھتا ہے تو وہ 600روپے سے کم گوشت فروخت کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ ہاتھ پر ہاتھ درے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے گراں بازاری عروج پر ہے اور دکاندار کھلے عام اپنے شرائط اور قیمتوں پر اشیاء کو فروخت کرتے ہیں ۔مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آیا ہے جبکہ وادی میں سبزی اور میوہ فروشوں نے عام آدمی کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے گراں بازاری آسمان کو چھو رہی ہے اور سردی کے باوجود خریداروں کے پسینے چھوٹ رہے ہیں ۔لوگوں کے مطابق عام آدمی کے مہنگائی کے ساتھ نبردآزما ہونے کا آغاز ہوا ہے کیونکہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہوش رباء اضافہ ہونے کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ نمائندے کے مطابق محکمہ امور صارفین کی غفلت شعاری کے نتیجے میں سرینگر سمیت وادی کے دوسرے قصبہ جات میں دکانداروں نے لوٹ کھسوٹ کا بے تحاشا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔شہر سرینگر میں سبزی فروش صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔بازاروں میں چیکنگ اسکارڈوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے سبزی فروش من مانیوں پر اتر آئے ہیں اور وہ منہ مانگی قیمتوں پر مختلف قسم کی سبزیاں اور مرغ فروخت کر رہے ہیں ۔جبکہ قصابوں نے اپنی دکانیں ہی بند کررکھی ہے اگر کوئی میٹ شاپ صبح کے اوقات کھلی بھی ملتی ہے تو 600روپے سے کم قیمت پر گوشت فروخت کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔

Comments are closed.