سرینگر/08نومبر/سی این آئی// مشرقی لداخ میںسرد ترین جگہوں اکتوبر سے ہی ہندوستان اور چین اپنی فو ج کو واپس بلاکر قریب 6ماہ تک علاقہ کو خالی کیا جاتا ہے تاہم امسال ہندچین سرحدی کشیدگی کے چلتے اس برس سردیوںمیں بھی دونوںممالک کی افواج حقیقی حد متارکہ پر موجود رہیں گی ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق مشرقی لداخ میں گلوان وادی اور دیگر جگہوں پر موسم سرماء میں درجہ حرارت منفی 55ڈگری تک گرجاتا ہے جہاں پر کسی بھی مخلوق کا زندہ رہنا ناممکن ہوتا ہے تاہم امسال ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھنے کے نتیجے میں دونوں ممالک کی افواج وہاں سردیوںمیں بھی موجود رہ سکتی ہے کیوں کہ ہندچین فوجی کمانڈروں کی بات چیت ناکام ہوئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر گزشتہ چھ ماہ سے بھی زیادہ وقت سے چلے آرہے تعطل کوختم کرنے کے لئے ہند اورچین کے فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت میں بھی فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت ہندوستانی سرحدی علاقے چشول میں گزشتہ جمعہ کو ہوئی تھی لیکن تقریباً دس گھنٹوں تک چلے اس مذاکرات کاکوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا اور یہ طے پایا کہ فریقین کے درمیان جلد ہی دوبارہ بات چیت ہوگی۔فوجی کمانڈروں کے مابین بات چیت کو ناکام قراردیتے ہوئے وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر تناؤ اور تعطل ختم کرنے کے لیے واضح نظریہ اور تفصیل سے بات چیت ہوئی تاہم فوجیں واپس بلانے پر فی الحال کوئی اتفاق نہیں ہوا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاہم دونوںجانب اس بات پراتفاق ہواکہ اس معاملے پر مزید مذاکرات ہوں ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.