لائن آف کنٹرول پر کپواڑہ کے مژھل سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کے دوران گمھسان کی جھڑپ

تین جنگجو ، فوجی کیپٹن ،دوفوجیوں اور بی ایف اہلکار سمیت 7ازجاں ، دو فوجی اہلکار شدید طور زخمی

مسلح جھرپ کے بعد لائن آف کنٹرول کے متصل گھنے جنگلات میں تلاشی آپریشن جاری ، خصوصی کمانڈوز طلب

سرینگر/08نومبر/سی این آئی// لائن آف کنٹرول پر سرحدی ضلع کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کو ناکا م بنانے کے دوران فوج اور مسلح جنگجوئوں کے مابین دوبدو جھڑپ میں فوجی آفیسر ،تین فوج و فورسز اہلکار اور تین جنگجو ازجاں ہو گئے ہیں ۔ مسلح جھرپ کے بعد لائن آف کنٹرول کے متصل گھنے جنگلات میں ممکنہ طور موجود مزید جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے تلاشی آپریشن کو مزید وسعت دیتے ہوئے فورسز کی مزید کمک طلب کی اور آپریشن میں خصوصی تربیت یافتہ فوجی اہلکار کے ساتھ ساتھ ہوئی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہے۔سی این آئی نمائندے نے دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ سنیچروار او ر اتوار کی درمیانی رات کو لائن آف کنٹرول پر مژھل سیکٹر میں جنگجوئوں کے ایک گروپ کی نقل و حرکت دیکھنے کے بعد فوج اور ایس او جی نے جنگلات کو محاصرے میں لیا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق جب فوج نے آس پاس کے علاقہ کو گھیرے میں لے کرجنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تو جواب میں انہوں نے فوج پر اندھادھند گولیاں چلائیں۔فورسز نے فوری طور جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح طرفین کے مابین باضابطہ جھڑپ شروع ہوئی۔اسی دوران فورسز کی اضافی کمک طلب کرکے مزید علاقوں کو گھیرے میں لیکر تلاشی کارروائی جاری رکھی گئی۔دفاعی ذرائع کے مطابق علاقے میں گولیوں اور زوردار دھماکوں کی گھن گرج سے نزدیکی بستیوں کے لوگ سہم کر رہ گئے۔ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں اور پولیس فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جبکہ پولیس و فورسز نے وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر بڑے پیمانے پر تلاشی کاروائیاں شروع کی ہیں۔ دفاعی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی گولی باری فوجی آفیسر سمیت چار فوجی اہلکار شدید طور پر زخمی ہو گئے جبکہ ایک جنگجو بھی جاں بحق ہو گیا ۔ دفاعی ذڑائع کے مطابق گولیوں کے تبادلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے فوجی افیسر لیفٹنٹ اوجیلا اور اس کے دو ساتھیوں کو زخمی حالات میں فوجی اسپتال علاج و معالجہ کیلئے منتقل کر دیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے جبکہ ابتدائی گولی باری میں ایک بی ایس ایف اہلکار بھی ہلاک ہو گیا تھا اور دو دیگر فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ایک جنگجو کی ہلاکت کے بعد کچھ دیر خاموشی چھائی رہی اور بعد میں طرفین ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔دفاعی ذرائع کے مطابق بعد میں گولیوں کا تبادلہ تھم جانے کے ساتھ ہی جونہی تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی تو جھڑپ کے مقام سے تین عدم شناخت جنگجو ئوںکی نعش بر آمد کی گئی۔ ذرائع کے مطابق علاقہ میں اگر چہ گولیوں کا تبادلہ رْک گیا ہے لیکن فوج کو خدشہ ہے کہ جنگجو ئوںنے لائن آف کنٹرول کے متصل گھنے جنگلات میں پناہ لے رکھی ہے۔انہیں تلاش کرنے کیلئے فوج کی مزید کمک کی مدد سے وسیع جنگلات کو گھیرے میں رکھا گیا ہے اور آخری اطلاع ملنے تک تلاشی کارروائی جاری تھی۔سرینگر میںمقیم دفاعی ترجمان نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچروار کی رات دیر گئے اس پار سے جنگجوئوں کے ایک گروپ نے دراندازی کرکے کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں للکارا گیا جس کے بعد انہوں نے فائرنگ شروع کی ۔ دفاعی ترجمان کے مطابق فائرنگ کے ساتھ ہی علاقے میں مسلح جھڑپ شروع ہوئی اور طرفین کے مابین گولی باری میں تین دراندازوں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی بر آمد کر لیا گیا ۔ دفاعی ترجمان کے مطابق گولیوں کے تبادلے میں فوج کا لیفٹنٹ اور اس کے تین ساتھی بھی ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ گھنے جنگلات میں تلاشی آپریشن جاری ہے ۔

Comments are closed.