بقایا فیس جب تک ادا نہیں ہوگا بچوں کا ریزلٹ ظاہر نہیں کیا جائے گا

پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے طلبہ کے والدین کو کیا جارہا ہے پریشان

سرینگر/06نومبر: بچوں کو امتحانی نتائج سے قبل ہی پرائیویٹ سکولوںمیں والدین سے ٹیوشن فیس برابر وصول کیا جارہا ہے جس پر والدین نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکولوں کی جانب سے فیس برابر لینا سراسر ناانصافی ہے کیوں کہ کئی ماہ تک لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی مالی حالت کافی خراب ہوچکی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کوروناوائرس کے نتیجے میں رواں برس کے ماہ مارچ میں سرکار کی جانب سے لاک ڈاون نافظ کئے جانے کے ساتھ ہی سکولوں کو بھی بند رکھنے کی ہدایت کی گئی جس کے بعد انتظامیہ نے کہا تھا کہ بچوں سے فی الحال کوئی فیس نہیں لی جائے گی اس دوران سکول ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے مابین باہمی طور پر اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ بچوں سے صرف ٹیوشن فیس لیا جائے گا کیوں کہ سکولوں کو عملہ کی تنخواہ اور دیگر ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ٹیوشن فیس کے علاوہ اور کوئی چارج بچوں کے والدین سے حاصل نہ کریں تاہم اب جبکہ متعدد پرائیویٹ سکولوں نے آٹھویں جماعت تک امتحانات آن لائن ہی منعقد کئے اور اب سکولوں میں امتحانی نتائج کا اعلان کیا جارہا ہے لیکن والدین سے جو گزشتہ مہینوں کا فیس ادانہیں کرپائے تھے اب باقی سارا فیس وصول کیا جارہا ہے ۔ ٹیوشن فیس کے علاوہ دیگر چارج بھی وصول کئے جارہے ہیں جن میں پرنٹنگ چارچ وغیرہ بھی شامل ہے ۔ والدین نے کہا ہے کہ ایک طرف لاک ڈاون کی وجہ سے وہ مالی بدحالی کے شکار ہوچکے ہیں تو دوسری طرف انہیں سکولوں کی جانب سے پورا فیس اداکرنے کیلئے دبائو ڈالا جارہا ہے حالانکہ انتظامیہ نے پہلے ہی ہدایت جاری کی ہے کہ کسی بھی طالب علم کے والدین کو فیس نہ اداکرنے کی پاداش میں امتحانی نتائج سے محروم نہ رکھا جائے اور فیس وصول کرنے میں نرمی برتی جائے ۔ والدین نے اس سلسلے میں لفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور پرائیویٹ سکولوںکو اپنی من مانی کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔

Comments are closed.