جموں کشمیر میں تعینات فوج و فورسز اہلکاروں کی جانب سے خود کشی کے رجحان میں اضافہ

گزشتہ ماہ یکم اکتوبر سے 31اکتوبر تک 7اہلکاروں نے سرکاری بندوق سے اپنی زندگی ختم کی

سرینگر/یکم نومبر: جموںکشمیر میں تعینات فورسز اور فورسز اہلکاروں کی جانب سے خود کشی کے واقعات میں امسال زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ گزشتہ ماہ اکتوبر میں 7اہلکاروںنے اپنی ہی بندوقوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی ختم کی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اہلکاروں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سخت ڈیوٹی، اپنے عزیز و اقارب سے دوری اور گھریلو و ذاتی پریشانیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے سیکورٹی اہلکاروں کے لئے یوگا اور دیگر نفسیاتی ورزشوں کو لازمی قرار دیا ہے لیکن باوجود اس کے جموں و کشمیر میں جوانوں کی جانب سے خودکشی کے واقعات گھٹنے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔یکم اکتوبر 2020کوجموں کے مضافاتی علاقہ گجن سو میں جمعرات کو ایک فوجی افسر نے اپنی ہی سروس رائفل سے اپنا کام تمام کر دیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق جموں کے گجن سو علاقے میں گروڈا سرحد پر قائم ایک چوکی پر تعینات سب انسپکٹر نے اپنی ہی سروس رائفل سے اپنے آپ کو نشانہ بنا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔مہلوک فوجی افسرکی شناخت چکر پانی پرساد تیواری ساکن مدھیہ پردیش کے بطور ہوئی ہے۔اسی طرح 2اکتوبر2020کو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے گوہلان اوڑی میں تعینات ایک فوجی اہلکار جو کہ 2جکلے ریجمنٹ سے تعلق رکھتا تھا نے اپنی بندوق سے خود پر گولی چلاکر زندگی ختم کردی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رکھشت کمار عمر 22برس ساکن سانبہ جموں جیلے 1پوسٹ سب سکٹر گوہلان اوڑی میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا جس دوران فوجی اہلکار نے سرکاری بندوق کااستعمال کرتے ہوئے خود پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وہ خون میں لت پر زمین پر گرپڑا۔ دیگر فوجی اہلکاروں نے اگرچہ اس کو فوری طور پر اُٹھاکر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال اوڑی پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے ۔6 اکتوبر : وسطی ضلع گاندربل کے چھترگل کنگن میں تعینات ایک فوجی جوان نے مبینہ طور پر اپنے آپ پر گولی چلا کر خود کشی کر لی ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گاندربل کے چھترگل کنگن میں قائم فوج کی 24 راشٹریہ رائفلز کے کیمپ میں تعینات فوجی جوان جگمیت سنگھ ولد مکھن سنگھ ساکن ہریانہ نے منگل کی علی الصبح خود پر گولی چلا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔اس دوران 11اکتوبر2020کو سرحدی ضلع کپوارہ کے سرحدی علاقہ نوگام سیکٹر میں ایک اور فوجی اہلکار نے اپنی سروس رائفل کا استعمال کرتے ہوئے خود کشی کرلی ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ این کے ملائی را ج جوکہ ایف ڈی ایل سمگام میں نوگام کپوارہ میں تعینات تھا نے اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلائی جس کی وجہ سے وہ خون میں لت پر ہوا ۔ فوجی اہلکار کو اگرچہ دیگر جوانوں نے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروںنے اسے مردہ قراردیا۔ ذرائع نے بتایا کہ فوجی اہلکار نے خود کشی کرنے کا اس طرح کا سنگین قدم کیوں اُٹھایا یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے تاہم پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے مزید چھان بین شروع کردی ہے ۔ خود کشی کے ایک اور واقعے میں 12اکتوبر 2020کو شمالی ضلع کپوارہ کے ہندوارہ میں تعینات سشسترا سیما بل کے ایک جوان نے مبینہ طور پر اپنے آپ پر گولی چلا کر خود کشی کر لی ہے۔مبینہ خود کشی کا یہ واقعہ ولگام ہندوارہ میں واقع ایس ایس بی کیمپ میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو پیش آیا ہے۔جموں و کشمیر میں ماہ رواں کے دوران بھارتی فوج یا پیرا ملٹری فورسز کے کسی اہلکار کی خود کشی کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔15اکتوبر2020کو سرینگر میں تعینات ایک اور سی آر پی ایف اہلکار نے خود پر گولی چلاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک سی آر پی ایف اہلکار جو کہ 25بٹالین سے وابستہ تھا اور مہجور نگر سرینگر میں تعینات تھا نے جمعرات کو اپنی سروس رائفل کا استعمال کرتے ہوئے خود پر گولی چلاکر اپنی زندگی ختم کردی ۔ مہلوک فورسز اہلکار کی شناخت پی جی ،ناید کے بطور ہوئی ہے ۔ سرینگر میں مقیم سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ اہلکار نے 2017میں فورسز میں شمولیت کی تھی ۔اس دوران رواں ماہ کی 12تاریخ کو ایک فورسز اہلکار نے اپنی سروس رائفل کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی تاہم اہلکار کو شدید زخمی حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ قریب 14روز تک زیر علاج رہنے کے بعد بالاخر آج دم توڑ بیٹھا۔ ذرائع کے مطابق 141بٹالین سے وابستہ ایک سی آر پی ایف اہلکار شیرگڑھی سرینگر میں Dکمپنی میں تعینات تھا نے 12اکتوبر کو اپنی سروس رائفل کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی اور خود پر گولی چلائی جس کی وجہ سے وہ خون میں لت پر وہیں گر پڑا تاہم دیگر ساتھیوںنے مذکورہ اہلکار کو فوری طور پر ایس ایم ایچ ایس ہسپتال پہنچایا جہاں وہ قریب دو ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد آج دم توڑ بیٹھا۔ اس طرح سے روں ماہ کے دوران جموں کشمیر میں تعینات سات فوجی اہلکاروں نے خود کشی کرلی ہے۔ اس طرح سے گزشتہ ماہ کے 31دنوں میں جموں کشمیر میں سات فورسز اہلکاروںنے زپنی زندگی ختم کی ۔ جموں و کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اہلکاروں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سخت ڈیوٹی، اپنے عزیز و اقارب سے دوری اور گھریلو و ذاتی پریشانیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے سیکورٹی اہلکاروں کے لئے یوگا اور دیگر نفسیاتی ورزشوں کو لازمی قرار دیا ہے لیکن باوجود اس کے جموں و کشمیر میں جوانوں کی جانب سے خودکشی کے واقعات گھٹنے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔

Comments are closed.