قاضی گنڈکے مضافاتی گاؤںمیں بھاجپاکے تین کارکنوں کی ہلاکت کاواقعہ؛ لشکر جنگجوؤں کاحملہ منصوبہ بندتھا :آئی جی پی کشمیر

2مقامی اورایک غیرملکی ملوث،جنگجوؤں کی جانب سے استعمال کی گئی گاڑی برآمد

سری نگر:۰۳،اکتوبر: جے کے این ایس : پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ وائی کے پورہ قاضی گنڈ میں تین سیاسی کارکنوں کی ہلاکت میں ملوث جنگجوؤں کی جانب سے استعمال کی گئی گاڑی کوبرآمد کیاگیا۔پولیس کے صوبائی سربراہ وجے کمار نے اس ہلاکت خیزواردات کیلئے لشکر طیبہ کوذمہ دار قرار دیا۔جے کے این ایس کے مطابق آئی جی پی کشمیروجے کمار نے یہاں نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ لشکر سے وابستہ جن تین جنگجوؤں نے وائی کے پورہ قاضی گنڈ میں جمعرات کی شام ہلاکت خیز واردات انجام دی ،اُن کی پہچان کرلی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ تاحال ملی اطلاعات وجانکاری سے لگتاہے کہ لشکر جنگجوؤں نے یہ واردات منصوبہ بندطریقے سے انجام دی ہے ۔وجے کمار کاکہناتھاکہ ابھی تک سامنے آنے والے حقائق اورابتدائی تحقیقات سے لگتاہے کہ اس حملے میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2مقامی اورایک غیرملکی جنگجوملوث رہا۔انہوں نے بتایاکہ ممکنہ طورپراس حملے میں نثار احمدکھانڈے وعباس شیخ ساکنہ کھڈونی اورایک غیرملکی جنگجو شامل تھا۔پولیس کے صوبائی سربراہ نے کہاکہ جنگجوالطاف نامی ایک شخص کی نجی کار میں سوارہوکر حملے کی جگہ پہنچے تھے ۔کارمیں سوارجنگجوؤں نے بھاجپا یوامورچہ کے جنرل سیکرٹری کولگام فداحسین ایتوکی کار کے نزدیک اپنی گاڑی لائی ،اورپھراندھادُھند فائرنگ کردی ،جسکے نتیجے میں فداحسین اوراُسکی گاڑی میں سوار2سیاسی کارکن شدیدزخمی ہوگئے ،اوربعدازاں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ بیٹھے ۔خیال رہے جمعرات کوشام کے تقریباً8بجے نامعلوم اسلحہ برداروں جن کوپولیس نے جنگجوقرار دیاہے ،نے وائی کے پورہ کے نزدیک ایک نجی گاڑی میں سوار بھارتیہ جنتاپارٹی کے تین کارکنوں بشمول یوا مورچہ جنرل سیکرٹری کولگام فداحسین ایتو،بھاجپاکارکن عمرحجام ساکنان وائے کے پورہ اورانجینئر ہارون رشید بیگ ساکنہ سوپت قاضی گنڈپرگولیوں کی بوچھاڑ کردی ،جسکے نتیجے میں بھاجپاکے تینوں نوجوان کارکن اسپتال پہنچائے جانے سے پہلے راستے میں دم توڑ بیٹھے تھے ۔آئی جی پی کشمیر نے جنگجوؤں کی جانب سے استعمال کی گئی نجی آلٹوکارکوتیلہ ونی علاقہ میں پولیس پوسٹ اچھ بل کے نزدیک برآمد کرنے کادعویٰ کیا۔ایک سوال کے جواب میں سینئرپولیس افسروجے کمار نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ 5اگست2019سے قبل ایسے1619افرادکی پہچان کرلی تھی ،جن کوخطرہ لاحق ہوسکتاتھا،اوران سبھی کواحتیاطی طورپر کچھ وقت کیلئے پہلگام میں رکھاگیا تھا۔تاہم بقول آئی جی پی کے فداحسین ایتومحفوظ جگہ سے اپنی مرضی اورذاتی تحریری یقینی دہانی کے بعدوہاں سے نکل گیا۔آئی جی پی کشمیر نے بتایاکہ پولیس نے اسبات کی تحقیقات شروع کردی ہے کہ تینوں سیاسی کارکن اپنے گھروں سے دوراس جگہ کیاکرنے گئے تھے ۔پولیس کے صوبائی سربراہ کاکہناتھاکہ جن سیاسی کارکنوں کی سلامتی کوخطرہ لاحق تھا،اُن میں سے157بھاجپاکارکنوں کوذاتی محافظ اور30گارڈ فراہم کئے گئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے پی ایس اوؤز کوہدایت دے رکھی ہے کہ وہ سیاسی کارکنوں کوشام کے بعدکسی خطرناک جگہ جانے نہ دیں ۔آئی جی پی کشمیرنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سیاسی کارکنوں پرجنگجوؤں نے منصوبہ بندطریقے سے حملہ کیا۔انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کی حمایت یافتہ جنگجوؤں کی کارستانی ہے ،اوریہ حملہ سرپاربیٹھے عناصر کی ایماءاورہدایت کے تحت انجام دیاگیاہے ۔آئی جی پی کشمیروجے کمار نے کہاکہ ہلاکت خیز واقعے کی ہرپہلوسے تحقیقات شروع کردی گئی ہے اوربہت جلدحقائق کومیڈیا کے سامنے رکھاجائیگا۔خیال رہے وائی کے پورہ قاضی گنڈکے نزدیک ایک نجی گاڑی میں سوار بھارتیہ جنتاپارٹی کے تین کارکنوں بشمول یوا مورچہ جنرل سیکرٹری کولگام فداحسین ایتو،بھاجپاکارکن عمرحجام ساکنان وائے کے پورہ اورانجینئر ہارون رشید بیگ ساکنہ سوپت قاضی گنڈپرجنگجوؤں نے جمعرات کی شام آٹھ بجے گولیوں کی بوچھاڑ کردی ،جسکے نتیجے میں بھاجپاکے تینوں نوجوان کارکن اسپتال پہنچائے جانے سے پہلے راستے میں دم توڑ بیٹھے ۔

Comments are closed.