کلچرل اکیڈیمی اور مراز ادبی سنگم کے باہمی اشتراک سے ٹائیگور ہال سرینگر میں ادبی تقریب

نوجوان شاعر ڈاکٹرشوکت شفاؔ کے کشمیر شاعری مجموعہ ’’کانہء والے َ‘‘ کی رسم رنمائی انجام دی گئی

سرینگر /29اکتوبر / کے پی ایس ؛ جموں وکشمیر کلچرل اکیڈیمی اور مراز ادبی سنگم کے باہمی اشتراک سے ٹائیگور ہال سرینگر میں ایک پُروقار ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف نوجوان شاعر ڈاکٹرشوکت شفاؔ کے کشمیر شاعری مجموعہ ’’کانہء والے َ‘‘ کی رسم رنمائی انجام دی گئی ۔تقریب کی صدارت معروف شاعر اور سابق ڈائریکٹر ریڈیو کشمیر رفیق راز نے کی جبکہ ایوان صدارت میںسیکریٹی کلچرل اکیڈیمی منیر الاسلام ،معروف براڈ کاسٹر ،محقق ،اسکالر اور آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام ایگزیکٹیوڈاکٹر ستیش ومل ،صاحب کتاب شوکت شفاؔ،معروف شاعر وادیب اعجاز غلام محمد لولالواور مراز ادبی سنگم کے صدر ریاض غزنو موجود تھے ۔تقریب کا آغاز حمد سے کیا گیا ۔اس کے بعد اظہار مبشر نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا ۔اس دوران شوکت شفاؔ کے ’’ سونچہ سدرک ملر ‘‘ عنوان کے تحت حمدیہ البم آواز کفایت حسین کی نمائش کی گئی جس سے سامعین وناظرین محظوظ ہوئے اور سامعین نے ان کے حمدیہ اشعار کو کافی سراہا اور حمدیہ کیسٹ کوسیکریٹری کلچرل اکیڈیمی نے ایوان صدارت میں موجود شخصیات کے ہمراہ اجراء کیا ۔اس کے بعد شوکت شفا کے شاعری مجموعہ ’’کشمیر یونیورسٹی شعبہ کشمیری کے سربراہ پروفیسر مجروح رشید نے شوکت شفاؔ کے شاعری مجموعہ ’’کانہء والے َ‘‘‘ کی رسم رونمائی انجام دی گئی اور 192صفحات پرمشتمل شاعری مجموعہ پرکشمیر یونیورسٹی شعبہ کشمیری کے سابق سربراہ پروفیسر مجروح رشید نے تبصرہ پیش کیا ۔اس دوران مراز ادبی سنگم نے اپنی طرف سے شوکت شفاکی ادبی خدمات کے ان کو توصیفی سند سے نوازا ۔اس موقعہ پرمقرین بشمول شبیر احمد شبیر نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ شوکت شفا کی شاعری داد دی اور کہا کہ ان کی شاعری میں اصناف سخن تمام اسلوب سامنے آتے ہیں ۔ادبی سنگم کے صدر ریاض غزنو نے ’’کانہء والے َ‘‘‘ کتاب اور اسکے تخلیق کار کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری کو ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔ اس موقعہ پر صاحب کتاب شوکت شفا نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیشہ سے میں ایک کامیاب ڈاکٹر ہوں لیکن شاعری میری چاہت اور فطرت میں پیوست ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپنی شاعری کو اصناف سخن کے ترازو میں ڈالنے کیلئے انہوں نے رفیق راز ،شہناز رشید ،شبیر احمد شبیر اور دیگر اساتذہ سے استفادہ کیااور کہا کہ مرازادبی سنگم کے زعماء کی حوصلہ افزائی ان کے لئے مشعل اراہ بنی ۔اس موقعہ پر ڈاکتر ستیش ومل نے شوکت شفا کی شاعری کو مقدم قرا دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش جاری رکھیں اور انہوں نے اشاروں و کنائیوں اس بات کو دہرایا کہ ادیب اور شعراء ایک دوسری حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں لیکن جب ان کے مزاج سے مخالف یا ان کے قد سے آگے بڑھنے کوئی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی پگڑی اچھالنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا ہے ۔اعجا غلام محمد لالو نے بھی اپنے زرین خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آدمی یعنی شوکت شفا اپنی زمین سے جڑا ہوا ہے ۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کلچرل سنٹر کے قیام کیلئے زمین طلب کی اور صرف دو سال میں پایہ تکمیل پہنچانے کا یقین بھی دلایا ۔آخر پر رفیق راز نے اپنے صدارتی خطبہ میں اصناف سخن کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور شوکت شفا کی شاعری کو سراہا اور امید ظاہر کی آگے ان کی تخلیق اسے بھی بہتر ہوگی

Comments are closed.